چاہئے، اس سے نماز میں کوئی خرابی نہ آئے گی، موبائل بند کرنے کے لئے نماز کو توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر موبائل بند نہیں کیا اور گھنٹی بجتی رہی تو نماز درست ہوجائے گی، لیکن مسلسل گھنٹی بجنے سے نماز کے خشوع وخضوع میں خلل آنے کا قوی اندیشہ ہے۔
وأشار بالأکل والشرب إلی أن کل عمل کثیر فہو مفسد، واتفقوا علی أن الکثیر مفسد والقلیل لا، لإمکان التحرز عن الکثیر دون القلیل۔ (البحر الرائق ۲؍۱۱ کراچی) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۷؍۶؍۱۴۲۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
دوران نماز ایک ہاتھ سے موبائل بند کرنا
سوال(۵۴۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آج کے اس سائنسی ترقی یافتہ دور میں موبائل اتنے عام ہوگئے ہیں کہ تجارتی اداروں میں تو کیا؛ بلکہ ہر ایک مسجد میں اکثر نمازیوں کی جیب موبائل سے خالی نہیں ہوتی، بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ موصوف خود تو نماز باجماعت کی ادائیگی میں مشغول ہیں؛ لیکن جیب میں رکھا موبائل رنگ ٹون (گھنٹی) کی شکل میں طرح طرح کے میوزک اور نغموں کی صدا بلند کررہا ہوتا ہے، جس کے سبب یقینا نمازیوں کی توجہ نماز سے ہٹ کر موبائل کی گھنٹی کی طرف مرکوز ہوجاتی ہے؛ لہٰذا نماز کے خشوع وخضوع میں خلل واقع ہونا ظاہر سی بات ہے، اور یہ سب کچھ موبائل بٹن سہوا بند نہ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کیا شریعت مطہرہ میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ نمازی عملِ کثیر کئے بغیر صرف ایک ہاتھ کے اشارہ سے اپنے موبائل کا سوئچ بند کردے؛ تاکہ دیگر نمازیوں کی نمازمیں خلل واقع نہ ہو؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اولاً تو اس کا اہتمام کرنا چاہئے کہ نماز کیلئے مسجد میں داخل ہوتے وقت موبائل کو بند یا سائلنٹ کردیا جائے، اگر بند کرنا بھول جائے اور گھنٹی بجنے لگے تو