صورت میں دائیں بائیں یا آگے کس حدتک بڑھ سکتے ہیں ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:احادیثِ شریفہ میں صف بندی کی بہت تاکید وارد ہوئی ہے، نیز صفوں کے درمیان رہ جانے والے خلا کو پر کرنے کی فضیلت بھی متعدد احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ بریں بناء اگر نماز شروع ہونے اور نیت باندھنے کے بعد اگلی صف میں یا دائیں بائیں خلا نظر آئے، تو ایک دو قدم بڑھا کر اسے پر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ البتہ متعدد صفوں تک خلاء کو پر کرنے کے لئے لگاتار چلنا مفسدِ صلوٰۃ قرار پائے گا؛ لیکن اگر ایک ایک قدم کے بعد ایک رکن (تین تسبیح) کے بقدر وقفہ کرکے اگلی صفیں پر کیں تو اس میں بھی فساد نہ ہوگا۔
وعن أنس بن مالک رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: سووا صفوفکم، فإن تسویۃ الصف من تمام الصلاۃ۔ (صحیح البخاري ۱؍۱۰۰ رقم: ۷۲۳، صحیح مسلم رقم: ۴۳۳)
وعن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من سد فرجۃ رفعہ اللّٰہ بہا درجۃ وبنی لہ بیتا في الجنۃ۔ (الترغیب والترہیب مکمل ۱۱۹، المعجم الأوسط رقم: ۵۷۹۳)
عن خیثمۃ قال: صلیت إلی جنب ابن عمر فرأی في الصف فرجۃ فأومأ إلي فلم أتقدم، قال: فتقدم ہو فسدّہا۔ (المصنف لإبن شیبۃ ۳؍۲۹۰ رقم: ۳۸۴۲)
مشی مستقبل القبلۃ ہل تفسد؟ … إن قدر صف ثم وقف قدر رکن ثم مشی ووقف کذٰلک، وہکذا لا تفسد، وإن کثر ما لم یختلف المکان۔ (درمختار) وفي الشامیۃ: روي أن أبا برزۃ رضي اللّٰہ عنہ صلی رکعتین آخذًا بقیاد فرسہ ثم انسل من یدہ، فمضی الفرس علی القبلۃ فتبعہ حتی أخذ بقیادہ، ثم رجع ناکصا علی عقبیہ حتی صلی الرکعتین الباقیتین … ثم اختلفوا في تاویلہ … وقیل: تاویلہ إذا مشی مقدار ما بین الصفین، کما قالوا: فیمن رأی فرجۃ في الصف