مسبوق کے تشہد سے فارغ ہونے سے پہلے امام نے سلام پھیردیا یا تکبیر کہہ دی؟
سوال(۸۰۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسبوق ابھی قعدۂ اولیٰ یا قعدۂ اخیرہ میں شریک ہوا ہی تھا کہ امام صاحب نے تیسری رکعت کے لئے تکبیر کہہ دی، اور اگرچوتھی رکعت تھی تو امام صاحب نے سلام پھیر دیا، بہر دو صورت مسبوق کو تشہد پورا کرنا واجب ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسئولہ دونوں صورتوں میں مسبوق کو تشہد پورا کرنے کے بعد ہی کھڑا ہونا چاہئے؛ لیکن اگر کوئی تشہد پورا کئے بغیر ہی امام کے ساتھ کھڑا ہوگیا، یا اپنی نماز پوری کرنے میں مشغول ہوگیا، تو بھی اس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔
عن حماد عن إبراہیم في رجل سبقہ الإمام بشيء من صلوتہ أیتشہد کلما جلس الإمام؟ قال: نعم، … قال محمد: وبہ نأخذ وہو قول أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالی۔ (کتاب الاٰثار، الصلاۃ / باب من سبقہ بشيء من صلا تہ، بحوالہ حاشیۃ: فتاوی محمودیہ ۶؍۵۵۹ ڈابھیل)
وإذا أدرک الإمام في التشہد وقام الإمام قبل أن یتم، أو سلم الإمام في آخر الصلاۃ قبل أن یتم المقتدي التشہد، فالمختار أن یتم التشہد، وإن لم یتم أجزأہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۹۰، کذا في الفتاوی التاتارخانیۃ ۲؍۱۸۲ رقم: ۲۱۱۲ زکریا) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقرمحمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۴؍۶؍۱۴۲۸ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ
اگر امام بھول سے پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے تو مسبوق کیا کرے؟
سوال(۸۰۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے