اسلام میں اخلاق حسنہ کی اہمیت
ایف جے،وائی(March 17, 2010)

اخلاق حسنہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہایت واضح الفاط میں اپنے رسول بنائے جانے کی غرض و غایت اخلاق حسنہ کی تکمیل ظاہر فرمائی۔ چنانچہ ارشاد گرامی ہے ”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ یعنی میں نیک اخلاق کی تکمیل کےلیے بھیجا گیا ہوں۔
ایک موقع پر حضور رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روز قیامت تم میں میرے سب سے پیارے اور نشست میں مجھ سے سب سے نزدیک وہ ہونگے کہ جو تم میں خوش اخلاق ہیں۔ مزید آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایمان والوں میں ایمان کامل اس کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔
خالق کی خوشنودی اور مخلوق میں ہر دلعزیزی حاصل کرنے کے لیے اخلاق سب سے بڑا سب سے بہتر، سب سے زیادہ آسان ذریعہ ہے۔ انسان ہزار عالم و فاضل اور عابد و زاہد ہو اگر وہ اوصاف اخلاق سے محروم ہے تو اس کا علم و قابلیت اور عبادت و زہد سب ہیچ ہےں۔
شارع اسلام حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اخلاق کی تعلیم پر جس قدر زور دیا ہے اس کے مطالعہ کے بعد یہ دعویٰ کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مذہب اسلام کی تمام تر تعلیم کا لب لباب اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ صرف اخلاق ہے۔ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے ایک شخص نے تین مرتبہ یہی ایک سوال کیا ”دین کیا ہے؟ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ یہی جواب فرمایا ”اخلاق“۔
بےشک ایمان اور اخلاق ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام اعلیٰ اخلاق کے بغیر بے جان ہے۔ ایک حدیث شریف میں اسلام کو عین اخلاق فرمایا گیا ہے حتیٰ کہ عبادت کی خوبی اور مقبولیت کو پاکیزگی اخلاق سے مشروط کردیا گیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ایمان کی روح کے بعد دعوت محمدی صلی اﷲ علیہ وسلم کے دوبازو ہیں ایک عبادت دوسرا اخلاق، ایک خالق کا حق ہے اور دوسرا مخلوق کا۔ انہی کے مجموعے کا نام اسلام ہے۔ واضح طور پر مطلب یہ ہوا کہ اخلاق اسلامی تقاضا کرتا ہے کہ اﷲ کی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ اسلام کا بنیادی مقصد فلاح دارین ہے اور یہ مقصد صرف اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان بلکہ تمام مخلوقات سے محبت کرنا سیکھے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایمان کے باب میں ایک نہایت بلیغ اور بڑی جامع ہدایت عطا فرمائی ہے کہ ”بندہ تکمیل ایمان کے رتبے پر اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ سارے آدمیوں کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو وہ اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔“
اس سے بڑھ کر بنی نوع انسان کی خیر طلبی کا معیار نہیں ہوسکتا۔اخلاق کی بلندی یہی ہے اور ایسے اچھے اخلاق ہی وہ ستون ہیں جن پر صحیح اسلامی معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اخلاق ہی سے قوت و طاقت اور عزت و سلطنت اور عظمت و رفعت حاصل ہوتی ہے۔ اخلاق ہی وہ شان ہے کہ جس میں اﷲ تعالیٰ کی نیابت کا رنگ پایا جاتا ہے۔
جب مسلمان اسلامی تہذیب و اخلاق سے آراستہ تھے تو وہ ایسی ہی نیکیوں کا سرچشمہ بن گئے اور برائی کا بدلہ نیکی سے دے کر اور ایذاءپہنچانے والوں سے حسن سلوک کرکے تکلیف دینے والوں کے دل جیت لئے۔ اخلاق ایک برگزیدہ صفت ہے کہ جس کے سامنے تمام چیزیں گرد ہیں اور کوئی شے اس کے برابر نہیں ہے۔
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ کشادہ پیشانی سے ملنا اخلاق کی تہذیب ہے مفلسی و تونگری میں مخلوق کو راضی رکھنا خوش خلقی کی دلیل ہے۔ بردباری اور صبر کرنا اور بدلہ لینے کے خیال کو پس پشت ڈال دینا اخلاق کی اعلیٰ ترین صفات ہیں۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق و اعمال کی کامل اتباع اور ایک ایک سنت پر مرمٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔