باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس بارے میں اصل کیفیت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، قرآنِ کریم میں {یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ اْلاَرْضِ} فرمایا گیا ہے، جس سے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمین کی جگہ دوسری زمین لائی جائے گی، بعض احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ بعض علماء نے حقیقی تبدیلی کے بجائے محض صفات کی تبدیلی مراد لی ہے۔
اور آپ کا یہ اشکال کہ پھر اس پر مخلوق کیسے سمائے گی؟ اس کے جواب کے لئے قرآنِ کریم کی یہ آیت کافی ہے: {وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ} یعنی جب زمین کوپھیلا دیا جائے گا۔ گویا کہ وہ زمین خواہ پہلی والی ہو یا نئی ہو، اتنی وسیع ہوجائے گی کہ تمام اولین وآخرین اس پر سما جائیںگے۔
واللّٰہ اعلم بکیفیتہ وہوالعلي العظیم۔ (تفسیر ابن کثیر مکمل ۷۲۶-۷۲۶، الجامع لأحکام القرآن الکریم للقرطبي ۹؍۲۵۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۳؍۳؍۱۴۲۱ھ
بدھ کے دن ناخن کاٹنے سے برص کی بیماری کا عقیدہ رکھنا؟
سوال(۹۵) :- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بدھ کے دن ناخن کاٹنے سے برص کوڑھ کی بیماری ہوجاتی ہے، مجھے اس قول میں تردد ہے؛ کیوںکہ بلا شبہ ناخن جمعہ کے روز کترنا مستحبات سے ہے مگر اس کے علاوہ دنوں میں مندرجہ بالا وجہ (برص) کی بناء پر منع ہونا عام معلومات میں نہیں ہے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بدھ کے دن ناخن کاٹنے سے برص ہوجانے کی روایت بے اصل اور ناخن کاٹنا مطلقاً سنت ہے، اس میں کسی دن کی اور کیفیت کی قید لازم نہیں ہے۔
قلت: وفي المواہب اللدنیۃ قال الحافظ بن حجر: إنہ یستحب کیف ما