کہ: میرے گاؤں کے اندر محرم کے مہینہ میں عاشورہ کے دن تعزیہ پر ایک بکرا (خصی) چڑھاوا چڑھاتے ہیں، جس کو ذبح کیا جاتا ہے، اور اس کے چمڑے کو بیچ کر مسجد میں لگاتے ہیں، یہ عمل کیسا ہے؟ مسجد میں لگانا درست ہے یانہیں؟ مزید بچا ہوا روپیہ گاؤں والے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں، اور ۲۰ فیصد کے حساب سے مہینہ میں جمع کرتے ہیں، اور وہ مسجد پر خرچ ہوتا ہے، تقریباً ۶؍ لاکھ روپئے جمع ہیں، اب اس روپیہ کا کیا حکم ہے، وہ سود ہے یانہیں، اگر سود ہے تو اس روپئے کو کیا کیا جائے، اور مسجد کے اندر جو روپیہ لگ چکا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: تعزیہ پر چڑھاوے کا وہ بکرا جسے ذبح کردیا جائے وہ مردار ہے، اس کا کھانا امیر وغریب کسی کے لئے حلال نہیں ہے؛ البتہ مالک کی اجازت سے اس کی کھال کارِ خیر بشمول مسجد میں صرف کی جاسکتی ہے؛ لیکن بچا ہوا پیسہ کسی بھی شخص کے لئے قطعاً حلال نہیں ہے؛ لہٰذا اس کی جو رقم مسجد پر خرچ کے علاوہ جمع شدہ ہے اسے فوراً غریبوں میں تقسیم کرنا لازم ہے۔
{حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ} [المائدۃ، رقم الآیۃ: ۳]
ذبح لقدوم الأمیر ونحوہ کواحد من العظماء یحرم لأنہ أہل بہ لغیر اللّٰہ۔ (درمختار مع الشامي، کتاب الذبائح زکریا ۹؍۴۴۹، کراچی ۶؍۳۰۹)
ولا یجوز لخادم الشیخ أخذہ ولا أکلہ ولا التصرف فیہ بوجہ من الوجوہ إلا أن یکون فقیراً أو لہ عیال فقراء عاجزون عن الکسب وہم مضطرون فیأخذونہ علی سبیل الصدقۃ المبتدأۃ فأخذہ أیضاً مکروہ ما لم یقصد بہ الناذر التقرب إلی اللّٰہ تعالیٰ وصرفہ إلی الفقراء ویقطع النظر عن نذر الشیخ۔ (البحر الرائق، کتاب الصوم، قبیل باب الاعتکاف ۲؍۲۹۸ کوئٹہ)
وروی الدار قطني عن ابن عباس عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما مر