دنیائے اسلام پر ایک اور طاغوتی وار
ایف جے،وائی(April 27, 2010)

ملک کے مختلف حصوں خصوصاً کراچی کی سرزمین پر گذشتہ عرصہ میں مسلسل علمائے کرام کو شہید کیا جارہا ہے۔ وقفے وقفے سے نامور علمائے کرام کی شہادت کے واقعات رونما ہورہے ہیں جن میں حضرت مولانا نظام الدین شامزئی، مولانا ڈاکٹر حبیب اﷲمختار، مولانا عبدالسمیعؒ، مولانا یوسف لدھیانوی، مولانا محمد جمیل خان، شیخ الحدیث مولانا عنایت اﷲ صاحب رحمہم اﷲ اور حال ہی میں عالمی مجلس ختم نبوت کے امیر مولانا سعید احمد جلال پوری قدس سرہ اور حضرت مولانا عبدالغفور ندیم صاحبؒ کی شہادت بلاشبہ ایک عظیم سانحہ ہے۔ ان علمائے کرام کی شہادت سے دنیائے اسلام میں جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ شاید کبھی بھی پورا نہ ہوسکے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے علمائے کرام کے تیزی سے اٹھ جانے کو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ ایک عالم کی موت کو پوری دنیا کی موت کے برابر کہا جاتا ہے۔ علمائے کرام کی شہادت کے پیچھے اسلام دشمن قوتوں اور لادینی طاغوتی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ اسلامی نظام اور اسلامی علوم و فنون کی ترویج و تشہیر میں چونکہ علمائے دیوبند ہمیشہ سے ہی سرگرم رہے ہیں اور طاغوتی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ ان علماء کی تعلیمات ہی سے مسلمان سچے مسلمان اور دین حق کے علمبردار بنتے ہیں، اسی لیے ان طاغوتی طاقتوں کا ہدف بھی یہی رہے ہیں۔

حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری اور حضرت مولانا عبدالغفور ندیم صاحب کی شہادت پر جہاں تمام مسلمانوں کو صدمہ ہوا ہے وہاں جامعہ اشرف المدارس کے اکابرین نے بھی اس پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے ان حضرات کی شہادت کو تمام مسلمانوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ شہید علماء کرام اور ان کیساتھ شہید ہونے والے رفقاء و ساتھیوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور جو علماء کرام حیات ہیں اﷲ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے اور ان کا سایۂ عاطفت امت مسلمہ پر قائم رکھے۔ آمین یارب العالمین بحرمۃ سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔