سے کم داڑھی رکھنا حرام ہے یعنی ایک مٹھی داڑھی سامنے سے، ایک مٹھی دائیں سے اور ایک مٹھی بائیں سے پکڑیں اور جتنے زائد بال ہوں انہیں کاٹ دیں پھر تیل لگاکر کنگھی کیجیے تو بہت خوبصورت داڑھی معلوم ہوگی۔ جیسا کہ میر صاحب کی داڑھی ہے، اور اس پر میرا شعر ہے ؎
میر کی داڑھی کا نقشہ یوں سنا کرتے ہیں ہم
ناچتا ہو مور جیسےپَر کو پھیلائے ہوئے

داڑھی ایک مٹھی سے کم رکھنے والا آدمی چالاک معلوم ہوتا ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ یہ آدھا مسٹر ہے، آدھا مُلّا ہے، پورا مُلّا نہیں ہے، سیدھا سادا نہیں ہے، اس سے ہوشیار رہیں، اور پوری داڑھی کے بعد اللہ تعالیٰ چہرے پر بھولپن، سادگی اور معصومیت پیدا کردیتا ہے لوگ دیکھتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ یہ ہماری جیب نہیں کاٹے گا۔ اب کوئی پاکٹ مار داڑھی رکھ لے تو یہ اس کی نالائقی ہے، یہ داڑھی کی خرابی نہیں ہے یہ تو اس کے دل کی خرابی ہے۔
عالمگیر بادشاہ کا ایک قصہ
عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کسی سے دھوکا نہیں کھاتے تھے، ایک بہروپیے نے بہت شکلیں بدلیں لیکن انہوں نے اس کی کسی شکل سے دھوکا نہیں کھایا، ہمیشہ پہچان لیا کہ یہ وہی بہروپیہ ہے جو نئی نئی شکلیں بناکر آتا ہے۔ بہروپیہ کے معنیٰ ہیں بہرِ روپیہ یعنی روپیہ کے لیے شکل بدلنے والے کو بہروپیہ کہتے ہیں۔ تو اس بہروپیہ نے سوچا کہ عالمگیر اللہ والوں کا بڑا معتقد ہے لہٰذا اب اللہ والوں کی شکل بنانی چاہیے۔ لہٰذا جب عالمگیر حیدرآباد دکن فتح کرنے جارہے تھے تو ان کے راستے میں ایک جنگل میں بڑے بڑے دانے کی تسبیح لے کر اور خوب بڑی سی داڑھی رکھ کر اور مصلّیٰ لے کر بیٹھ گیا۔ جب عالمگیر اس طرف سے گزرے تو لوگوں نے بتایا کہ یہاں جنگل میں ایک ولی اللہ رہتے ہیں، کسی سے سوال نہیں کرتے، کسی سے کچھ نہیں مانگتے، تو وہ فوراً اس کے پاس گئے اور کہا کہ بابا! میں حیدرآباد دکن فتح کرنے جارہا ہوں، میرے لیے دعا کرنا۔ اب وہ اصلی بابا تو تھے نہیں، بادشاہ کو دھوکا دینے کے لیے بابا بنے ہوئے تھے، بابا نہیں تھے یابا تھے، عربی میں ابیٰ یابیٰ کے معنیٰ سرکشی کرنا ہے۔ تو عالمگیر بادشاہ نے دعا کراکے ایک ہزار