چاہیےیعنی اگر کوئی تین رکعات مغرب کے فرض پڑھ لے پھر دورکعت سنتِ مؤکدہ پڑھ لے، اس کے بعد چار رکعات نفل پڑھ لے تو اس کی دورکعت سنت مؤکدہ بھی اوّابین میں شامل ہوجائیں گی اور قیامت کے دن اس کا چھ رکعات اوّابین پڑھنے والوں میں شمار ہوگا۔ احادیث کے الفاظ بھی یہی بات بتاتے ہیں مَنْ صَلّٰی بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَکَعَاتٍ الٰخ2؎ یعنی جو فرض نماز پڑھنے کے بعد چھ رکعات پڑھے، تو اس میں سنتِ مؤکدہ بھی شامل ہے۔ لیکن اگر کوئی زیادہ پڑھنا چاہے تو اس کی ممانعت نہیں ہے کیوں کہ اوّابین کی بارہ رکعات بھی ثابت ہیں اور بیس رکعات بھی ثابت ہیں۔
تھوڑا لیکن ضروری عمل نجات کے لیے کافی ہے
یہ ضروری بات اس لیے عرض کردی کہ بعض وقت نفس زیادہ عمل کے خوف سے تھوڑا عمل بھی چھڑوا دیتا ہے بلکہ شروع ہی نہیں کرواتا جیسے سترہ رکعات کے خوف سے بہت سے لوگ عشاء کے فرض بھی نہیں پڑھتے، کہتے ہیں کہ میاں! سترہ رکعات کون پڑھے۔ کرکٹ کھیلنے کے لیے تو ان کے پاس وقت ہوتا ہے، اس وقت تو گھڑی بھی نہیں دیکھتے،اس وقت تو ان کو ایسا مزہ آتا ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو لیکن نماز میں پتا چلتا ہے کہ بڑی بھاری ہے، اور نماز واقعی بھاری ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ نماز بہت بھاری ہے:
وَاِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ3؎
نماز بہت بھاری ہے مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ ان پر بھاری نہیں ہے بلکہ ان کی زندگی کی لذت اور حیات اسی پر موقوف ہے،جیسے سانپ کو پانی میں رہنا بھاری ہے لیکن مچھلیوں کو پانی میں رہنا بھاری نہیں ہے۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
دائم اندر آب کارِ ماہی است
مار را با او کجا ہمراہی است

_____________________________________________
جامع الترمذی:98/1، باب ماجاءفی فضل التطوع ست رکعات،ایج ایم سعید
البقرۃ:45