باب۹=معقولات اور فلسفہ کی ضرورت:افکار جدیدہ کے تناظر میں
مقالہ کی ابتدا میں یہ بات کہی گئی تھی کہ اہل مغرب کی طرف سے اور نیچریت زدہ مسلمانوں کی طرف سے فلسفہ کے اُسی جزو کی مخالفت کی جا تی ہے جس سے بلا واسطہ یا بالواسطہ شریعت کا دفاع متعلق ہے ،مخالفت بذاتِ خود فلسفہ سے نہیںہے،یا بالفاظِ دیگر یہ کہیے کہ تحلیلی فلاسفی( Analytic philosophy)سے ،کیا اہل مغرب اور کیا جدیدکی طرف میلان رکھنے والے مسلمان ،سب ہی متاثر ہیں ۔ فلاسفی کا یہ تحلیلی طریقہ در حقیقت اپنے خیالات میں سائنس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ،اور اِس کا کہنایہ ہے کہ قدیم فلسفہ کی راہ سے حق اور صداقت کا حصول ممکن نہیں ہے؛ہاں فلسفہ صرف اِتنا کام کر سکتا ہے کہ افکار کی منطقی طور پر تصدیق کر دے؛دور جدید(۱)حاشیہ:(۱)یعنی عہدعقلیت=۱۷ویں صدی عیسوی،عہد روشن خیالی=۱۸ ویں صدی عیسوی اور دونوں کا آمیزہ ،۱۹ویں اور بیسویں صدی عیسوی پر مبنی عقلیات کے تحت فلسفہ کا بس اِتنا ہی کام ہے کہ وہ سائنٹفک میتھڈ سے حاصل ہونے والے نتائج کی رجسٹری کر دے اور بس۔
لیکن ہم آپ کو یہ بتاتے ہیںکہ ہمارے اِس جدید دور میں فلسفہ کے اصول و فروع اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ رائج ہیں۔رہی سائنس ،تو اُس کے مسائل اُنہی مسائلِ فلسفہ کے ضمن میں شریعت کے ساتھ مزاحمت اور مناقشہ کا با عث ہیں ۔وجہ اِس کی یہ ہے کہ مشاہدہ اور تجربہ جو سائنسی علم کے ذرائع ہیں،یہ خود براہِ راست تو مزاحم ہو تے نہیں،اُن سے حاصل ہو نے وا لے عقلی نتائج ہی معارضہ پیدا کرتے ہیں۔اِس کو اِس مثال سے سمجھئے کہ مثلاً نیوٹن نے پتھر کو یا سیب کو اوپر سے گرتے ہوئے دیکھا،اِسی طرح لوہے کو مقناطیس کی طرف کھنچتے ہو ئے دیکھا،تو اِس مشاہدہ کا کسی چیز سے کیا تعارض ہے،اور کسے خبط سوار ہوا ہے کہ اِس کا اِنکار کر دے ؟لیکن مشاہدہ کی اِس قطعی دلیل سے نیوٹن نے جو نتیجہ اخذ کیا کہ زمین اور مقناطیس کے اندر قوتِ کشش ہے اور یہ قوت ہی پتھر اور لوہے کو اپنی طرف کھینچتی ہے ،اِس قوت کا ،اُسے مشاہدہ نہیں ہوا ہے،؛بلکہ یہ نیوٹن کا عقلی استنباط ہے،جسے نیوٹن کی تحقیق قانونِ کشش کے تقریباً۱۷۵ سال بعد حضرت نا نوتویؒ نے اور سوا دو سوسال کے بعد آئنسٹائن نے چیلنج کر دیا۔ایک نے اپنے طریقۂ کار سے قوتِ کشش کا ہی انکار کیا،اور اُسے باطل بتلایا،دوسرے نے اُس کے قانون اور کلیہ ہو نے کا انکار کیا۔اور غور سے دیکھئے تو قوتِ کشش کے قانون کو تسلیم کرنے میں ایک باریک شرعی مفسدہ بھی ہے،جس پر حضرت نا نوتویؒ نے شرح و بسط کے ساتھ کلام فرمایا ہے۔ اسی لحاظ سے سمجھنا چا ہیے کہ د ورحاضر کی تمام مزاحمتیں اور گمراہیاںعقل اور فلسفہ سے ہی وابستہ ہیں ۔یہاں بطور مثال دور حاضر میں رائج فلسفہ کی چند شاخیں ذکر کرتے ہیں:
جدید فلاسفی کی شاخیں اور جدید فلاسفرز
(۱)فلسفۂ ذہن(Philosophy of Mind): ذہن،شعور وغیرہ کی فطرت کا مطالعہ (۲)فلسفۂ مذہب :فطرتِ مذہب،خدا،شر،عبادت وغیرہ کا مطالعہ (۳)فلسفۂ تعلیم:مقصد،طریقہ،فطرت اور تعلیمی افکار (۵)فلسفۂ سائنس:مفروضے،تعمیرات اور نتائجِ مضمرات کا مطالعہ(۶) فلسفۂ نفسیات(Psychology of Philosophy)(۷)فلسفۂ فلسفہ(Philosophy of philosophy)