طریقۂ کار کے لحاظ سے:(۱)استقراء(Inductive method):فرانسس بیکن،اور تمام سائنسداں اسی بنیادی اصول کے پابند ہیں۔(۲)قیاس(Deductive method):کانٹ،Frederick(the Enlightment king)ولف( Wolff)والٹیئرکی تحقیقات و نتائج اِسی اصول پر مبنی ہیں ۔یہ لوگ روشن خیالی عہد سے وابستہ کہے جاتے ہیں۔ڈیکارٹ،اسپینوزا،اور لیبنز۔لاک،برکلے،ہیگل،جرمنی تصوریہ(German idealist)مثلاً شیلنگ(Shelling)،شوپنہار(Schopnhauer)جس پر کانٹ کے اثرات بہت گہرے مرتب ہو ئے۔یہ سب قیاسی اصول کے پابند
ہیں۔ ولیم جیمسPragmatismتصور کا حامل تھا یعنی اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ صرف وہی خیالات با معنی ہیں جو عملی اور اطلاقی ہوں۔وہ مذہبی اعمال کی نفسیات کو اپنا موضوع بنائے ہوئے تھا۔
جان لاک (John Locke)جارج برکلے اور ڈیوڈ ہیوم تجربی طریقہ اور حواس خمسہ پر بھروسہ کے ساتھ فلسفی دلائل کے خوگر ہیں؛لیکن ڈیکارٹ لیبنز اور اسپنو زا کی عقلیت(Rationalism)کے مخالف ہیں ۔اِن کا فلسفہ Impiricism کہلاتا ہے۔یہ فلسفہ کُلُُّ مَوْلُوْدِِ یُوْلَدُ علی الْفِطْرۃِ کا،اور خیر و شر کے ازلی حقیقت ہونے کا منکر ہے؛کیوں کہ یہ باتیں تجربے سے ما وراعقیدے سے متعلق ہیںاور یہ فلسفہ ہر چیز کو تجربہ پر مبنی قرار دیتا ہے۔ اس کے بر عکس Innateفلسفہ ،چیز کے فطری اور جبلی ہو نے پر یقین رکھتا ہے۔یہ گو یا مذکورہ فلسفہ کا ضد ہے۔اس کا کہنا ہے کہ تجربے اور حواس خمسہ کی ہی مدد سے تمام معلومات حاصل نہیں ہوتیں؛بلکہ بعض حقائق حواس کے بغیر بھی دریافت ہو سکتے ہیں۔
اِمّینویل کانٹ کی خالص عقلیت (Pure Reason )ڈیوڈ ہیوم کے افکار کا رد عمل ہے؛بلکہ کہنا چاہیے کہ اِس نے ۱۸ویں صدی کے دوغالب نظریات کے مکاتبِ فکر یعنی ریشنلزم (جو صرف عقلیات کے سہارے حاصل ہو نے والی معلومات پر بھروسہ کرتا ہے )اورتجربیت(جو صرف حواس کے سہارے حاصل ہو نے والی معلومات پر بھروسہ کرتا ہے)،کانٹ نے اِن دونوں انتہاؤں کے لیے پل کا کام کرنے والی فکر دریافت کی جسےTranscendental idealism کہتے ہیں،اِس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
تحلیلی فلاسفی( Analytic philosophy) اور معروضی فلاسفی (Objectivism)
۱۹ ویں صدی میں جب کہ نظریۂ علم(Epistemology)کی وسعتوں کے تحت لا ادریت اور تشکیکیت(Skepticsm)، وجودیت(Existantialism)،عقلیت(Rationalism)،تجربیت(Empiricism)،انسانیت(Humanism) ثبوتیت(Positivism)،ما بعد جدیدیت(Post modernism)،سائنٹفک ریشنلزم آف نیچر(Sceintific Rationalism of nature) ،افادیت(Utilitarianism)اور معروضیت(Objectivism) کا ولولہ اور دور دورہ تھا ، عین اسی وقت اِن سب سے آزاد ہونے کے لیے ،اور انسان کو باطنی سکون پہنچا نے کے لیے ،ان کے مقابلہ اور رد عمل کے طور پر رومانیت (Romanticism)کانہایت قوت کے ساتھ ظہور ہوا جو،ذہنی،جذباتی،جمالیاتی،بصری آرٹ،میوزک،کلچر لٹریچراور حقیقت پسندانہ ادب (۱)پر مبنی تحریک تھی۔رومانٹسزم کی یہ سب شاخیں فلسفیانہ خیالات کی سوغاتیں ہیں۔ اور انہیں دریافت کرنے والے فلاسفرز یہ ہیں:روسو،کانٹ،فشتے،شیلینگ،ولہلم ہیگل ،رالف والڈو،اِمَرسن ،ہنری ڈیوڈ تھورو اور شوپنہاروغیرہ۔اِن فلسفیوں نے ظواہر اور نیچر کو ذریعہ کے طور پر استعمال تو کیا ؛لیکن سارا زور اِن کا،ذہن،احساس، ادراک،شعور ،خیال یعنی حوا س خمسہ باطنہ کے اعمال سے حاصل ہونے والے نتائج اور وجدان پر تھا۔اِن کے پیش نظر ’’معروضی ‘‘مطالعہ کے بجائے ’’ذہنی‘‘ادراکات تھے۔نیچر کو اِنہوں نے ایک تجربہ کی چیز تو بتلایا؛لیکن مقصود ماننے سے اور اِس بات سے کہ حقائق جاننے کا ذریعہ یہی ہے ،انکار کیا۔اِن کا ماننا تھا کہ نیچر سے تجربہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے؛لیکن یہ، ساز باز،ہیرا پھیری اور مطالعہ کے لیے نیز فرد کے تجربے کے واسطے نہیں ہے ؛بلکہ فرد اپنے اُن احساسات کے ذریعہ جو اخلاقی اقدار تعمیر کرنے میںمدد گار ہوں،حقائق تک پہنچ سکتا