ایک بزرگ کی دینی غیرت کا واقعہ
ایک اللہ والے تھے۔ انگریز کے زمانے میں ان کو انگریز جج نے بیان دینے کے لیے عدالت میں بلایا تو انہوں نے عدالت میں جج کی طرف پیٹھ کی اور دوسری طرف منہ کیا۔ جج حیران ہوا کہ اس نے میری طرف پیٹھ کیوں کی؟ اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اے کافر! تجھے دیکھنے کوہمارا جی نہیں چاہتا کہ ہم کافر کامنہ دیکھیں۔ ایسے بھی اللہ والے موجود ہیں کہ کافر جج کی طرف منہ نہیں کیا بلکہ پیٹھ کر کے کھڑے ہوئے اور بیان دے کر چلے گئے، اس نے بہت کہا کہ ہماری طرف منہ کرو تو یہی کہتے رہے کہ نہیں، ہم کافر کودیکھ نہیں سکتے۔
پاکستان کے آسمان و زمین میں حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کو کلمہ کے نور کا مشاہدہ
میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ جب پہلی دفعہ ہندوستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تو لاہور کے بارڈر پر لوگوں نے بتایا کہ وہ انڈیا کا جھنڈا ہے اور یہ پاکستان کا جھنڈا ہے، اب یہاں سے پاکستان کی زمین شروع ہورہی ہے، تو حضرت نے فرمایا کہ الحمدللہ! یہاں کے زمین و آسمان مجھے کچھ اور ہی معلوم ہورہے ہیں اور فرمایا کہ پاکستان کے زمین و آسمان میں مجھے کلمہ کا نور معلوم ہورہا ہے۔ اس کے بعد چند مسلمان پاکستانی سپاہیوں نے بڑی بڑی داڑھی والوں کو دیکھ کر جو حضرت کے ساتھ تھے حضرت سے کہا السلام علیکم، تو اسلامی شعار دیکھ کر حضرت خوش ہوگئے اور کچھ عرصہ بعد جب بمبئی واپس گئے تو فرمایا کہ ساری بمبئی مجھ کو بڑ بھوجے یعنی چنے کی دوکان معلوم ہوتی ہے،جہاں چنا بھونا جاتا ہے وہاں جگہ جگہ کالک لگی رہتی ہے۔
بعض لوگوں نے حضرت سے کہا کہ ہندوستان میں رہیے، تاکہ آپ کی قبر وہیں بنے، حضرت کے لڑکوں نے بھی کہا کہ ابا، چلیے ہندوستان، اخیر عمر میں وہیں رہیے، وہاں آپ کا سارا خاندان ہے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ میں ہندوستان کی طرف پیشاب کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہوں۔ آہ! حضرت کی یہ شان تھی کہ یہاں کی موت کو حضرت نے عزیز سمجھا۔ پاپوش نگر کے قبرستان میں میرے شیخ کی قبرہے۔