کتاب اﷲ اور رجال اﷲ کا تلازم
ایف جے،وائی(June 3, 2010)

آج کا دورفتنوں کا دور ہے، ہر آنے والے دن میں ایک نیا فتنہ سامنے آرہا ہے لیکن ایسے ناگفتہ بہ حالات میں مسلمانوں کے لیے اب بھی کامیابی کا راستہ اور فتنوں سے بچنے کا ذریعہ موجود ہے اور وہ ذریعہ قرآن کریم ہے جو کہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔قرآنی تعلیمات ہی ہماری دونوں جہان کی زندگی سنوارنے کی ضامن ہیں اور ان میں ہماری تمام مشکلات و مصائب کا بہترین حل موجود ہے، یہ ابن آدم کو جہنم سے بچا کر جنت میں لے جانے کا واحد ذریعہ ہے اس لئے ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس مقدس کتاب کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور ان سے سرِ مو انحراف نہ کرے۔

لیکن کتاب اﷲ تو آج بھی موجود ہے پھر کیا وجہ ہے کہ امت مسلمہ قرآنی تعلیمات سے بہت دور ہے۔ اس کی عجیب وجہ حضرت مفتی شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان رحمۃاﷲ علیہ نے معارف القرآن میں تحریر فرمائی جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کتاب اﷲ کے ساتھ رجال اﷲ بھیجے گئے، جنہوں نے کتاب پر مکمل عمل کرکے لوگوں کی تربیت فرمائی۔ اگر محض کتاب کافی ہوتی تو رسولوں کو نہ بھیجا جاتا لیکن آج ہمارا حال یہ ہے کہ قرآن و حدیث سمجھنے کے لیے دینی اسکالر ڈاکٹر اور پروفیسر کا سہارا لیتے ہیں جن کو فہم دین کے ہوا بھی نہیں لگی اور یہ امر مسلّم ہے کہ جن کی زندگی قرآن و سنت کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی نہیں ہے ان پر قرآن و حدیث کے علوم منکشف نہیں ہوسکتے اور ان کی اتباع سے بجز گمراہی کے کچھ نہیں مل سکتا۔

حضرت مفتی شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں: انسان کی تعلیم و تربیت محض کتابوں اور روایتوں سے نہیں ہوسکتی، بلکہ رجال ماہرین کی صحبت اور ان سے سیکھ کر حاصل ہوتی ہے، یعنی درحقیقت انسان کا معلّم اور مربّی انسان ہی ہوسکتا ہے، محض کتاب معلّم اور مربّی نہیں ہوسکتی، بقول اکبر مرحوم ؎

کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں

آدمی‘ آدمی بناتے ہیں

اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو دنیا کے تمام کاروبار میں مشاہد ہے کہ محض کتابی تعلیم سے نہ کوئی کپڑا سینا سیکھ سکتا ہے، نہ کھانا پکانا، نہ ڈاکٹری کی کتاب پڑھ کو کوئی ڈاکٹر بن سکتا ہے، نہ انجینئری کی کتابوں کے محض مطالعے سے کوئی انجینئر بنتا ہے، اسی طرح قرآن و حدیث کا محض مطالعہ انسان کی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے لیے ہرگز کافی نہیں ہوسکتا، جب تک اس کو کسی محقق ماہر سے باقاعدہ حاصل نہ کیا جائے، قرآن و حدیث کے معاملے میں بہت سے پڑھے لکھے آدمی اس مغالطے میں مبتلا ہیں کہ محض ترجمے یا تفسیر دیکھ کر وہ قرآن کے ماہر ہوسکتے ہیں، یہ بالکل فطرت کے خلاف تصور ہے، اگرمحض کتاب کافی ہوتی تو رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت نہ تھی، کتاب کے ساتھ رسول کو معلّم بنا کر بھیجنا اور صراط مستقیم کو متعین کرنے کے لیے اپنے مقبول بندوں کی فہرست دینا اس کی دلیل ہے کہ محض کتاب کا مطالعہ تعلیم و تربیت کے لیے کافی نہیں، بلکہ کسی ماہر سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

معلوم ہوا کہ انسان کی صلاح و فلاح کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک کتاب اﷲ جس میں انسانی زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ احکام موجود ہیں، دوسرے رجال اﷲ یعنی اﷲ والے، ان سے استفادے کی صورت یہ ہے کہ کتاب اﷲ کے معروف اصول پر رجال اﷲ کو پرکھا جائے، جو اس معیار پر نہ اتریں، ان کو رجال اﷲ ہی نہ سمجھا جائے، اور جب رجال اﷲ صحیح معنی میں حاصل ہوجائیں، تو ان سے کتاب اﷲ کے مفہوم سیکھنے اور عمل کرنے کا کام لیا جائے۔ (معارف القرآن ، ج ۱؍ ،ص۹۳)

اور صحبت اہل اﷲ کی اہمیت پر شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کا یہ ملفوظ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ صحبت اتنی بڑی نعمت ہے کہ ایک لاکھ کتابیں پڑھنے والے میں وہ بات نہیں پائوگے جو صحبت یافتہ لوگوں سے پائو گے، دیکھئے قرآن پاک ابھی مکمل نازل نہیں ہوا صرف اقراء باسم ربک نازل ہوئی اور نبوت عطا ہوگئی۔ قرآن پاک ابھی ۲۳؍ سال میں مکمل ہوگا لیکن نبوت آپ کو ایک ہی آیت کے نزول پر مکمل عطا کی گئی۔ نبوت ناقص نہیں دی گئی کہ قرآن پاک ابھی مکمل نہیں ہوا تو نبوت تھوڑی سی دے دی گئی ہو۔ نہیں! مکمل نبوت عطا ہوئی اور ایسی مکمل ہوئی کہ جس نے آپ کو اس حالت میں دیکھا وہ صحابی ہوگیا اور مکمل صحابی ہوا ہے، ناقص صحابی نہیں ہوا۔ وہ صحابی مکمل آپ نبی مکمل اگرچہ قرآن پاک ابھی مکمل نازل نہیں ہوا۔ معلوم ہوا کہ نبوت اور صحابیت کتاب اﷲ کی تکمیل کی تابع نہیں۔ اگر کتاب صحبت سے زیادہ اہم ہوتی تو اقرأ باسم ربک کے نزول کے وقت ایمان لانے والے صحابی نہ ہوتے بلکہ یہ ہوتا کہ ابھی تو ایک ہی آیت نازل ہوئی ہے جب پورا قرآن نازل ہوجائے گا تب صحابی بنوگے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس وقت ایمان لانے والے صحابہ کا مقام سب سے بڑھ گیا اور وہ سابقون الاولون کہلائے۔ اور آج پورا قرآن سینوں میں ہے لیکن کوئی صحابی بن کر دکھائے۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ صحبت کیا چیز ہے۔ (مواہب ربانیہ ص۵۸۲)