صراطِ مستقیم
ایف جے،وائی(June 3, 2010)

ملفوظات حضرت پھولپوریؒ مرتب شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

(گذشتہ سے پیوستہ)

اب ایک سوال اس مقام پر اور ہوتا ہے وہ یہ کہ مغضوبین اور ضالین میں یہود و نصاریٰ کو متعین کیوں فرمادیا، مشرکین عرب کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔ مشرکین کا راستہ بھی صراط مستقیم سے دور کرنے والا ہے۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہود و نصاری میں علماء بہت بڑے بڑے تھے جن کی اتباع سے گمراہی کا قوی اندیشہ تھا۔ حدیث شریف میں ہے زلۃ العالم زلۃ العالم عالم کی گمراہی عالم کی گمراہی کا سبب ہوتی ہے، یہود اور نصاریٰ کی طرف ان کا علم داعی اور جاذب تھا نیز ان کے اندر کفر اور شرک بھی تھا اس لیے ضمناً سب اہل کفر اور شرک بھی مغضوبین اور ضالین میں داخل ہیں۔

انعام یافتہ بندوں کے راستے کو حق تعالیٰ نے صراط مستقیم فرمایا ہے اور انہیں کے راستے کو ایک جگہ اپنا راستہ بھی فرمایا ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں ؎

ہذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل

فتفرق بکم عن سبیلہ ذالکم و صاکم بہ لعلکم تتقون۔

حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرا رسول جس راستے کی طرف تمہیں پکارتا ہے یہ میرا ہی راستہ ہے اور بالکل سیدھا راستہ ہے پس تم لوگ اسی راستے کی اتباع کرو۔ اس سیدھے راستے کے علاوہ اور بہت سے ٹیڑھے راستے بھی ہیں جن پر مغضوبین اور ضالین چلتے ہیں ان راستوں کی اتباع مت کرنا ورنہ یہ راستے تمہیں میرے راستے سے دور کردیں گے۔ یہ ہمارا تاکیدی حکم ہے تاکہ تم احتیاط رکھو۔

اور ایک جگہ اسی سیدھے راستے کو رسول کی طرف نسبت فرما رہے ہیں:

قل ہذہ سبیلی ادعو االی اﷲ علی بصیرۃ انا و من اتبعنی

اے ہمارے رسول آپ فرمادیجئے کہ یہ راستہ میرا ہے مگر یہ میرا راستہ ایسا راستہ ہے کہ میں اپنے راستے پر لاکر اﷲ تک پہنچادیتا ہوں اور میں دیکھ بھال کر راستہ چلتا ہوں اور دوسروں کو بھی اسی طرح یعنی علی وجہ البصیرۃ چلاتا ہوں، میں اپنے راستے کا صدق اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں، یہ راستہ میرے لیے نظری نہیں ہے حق تعالیٰ نے مجھ پر اس راستے کو اس قدر بدیہی اور واضح فرمادیا ہے کہ میں اپنے راستے کو اسم اشارۃ کے قریب یعنی ہذہ سے تعبیر کررہا ہوں یعنی جو تمہارے لیے نظری ہے وہ ہمارے لیے مثل محسوس خارجی کے ہے اور میری ذات ایسی بافیض ہے کہ میرے متبعین کے اندر بھی یہی بینائی میری اتباع کے فیض سے پیدا ہوگئی ہے۔

میں نے تلاوت اور تزکیۂ نفس اور تعلیم کتاب و حکمت کے انوار سے اپنے اصحاب کو بھی بیناکردیا ہے انا ومن اتبعنی اس بصیرت سے میرے متبعین بھی مشرف ہوگئے۔ اس منعم علیہ بندے کا یہ اعجاز ہے کہ اس کی صحبت پاک سے ایسے افراد جو کفر اور شرک کی گندگی میں ملوث تھے وہ صراط مستقیم پر دوسروں کو چلانے والے بن گئے۔ ہر صحابی ہدایت کا چراغ بن گیا۔

جہاں صراط مستقیم کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف ہے تو وہ باعتبار اصل موضوع لہ کے ہے یعنی بالمعنی الحقیقی اور منعم علیہم کی طرف اس معنی کرکے نسبت ہے کہ وہ اس راستے پر چلاتے ہیں۔

کتاب کے اندر صراط مستقیم کا عنوان بتایا گیا ہے، صراط مستقیم کا معنون انعام یافتہ بندوں کے ساتھ چلنے سے حاصل ہوگا۔ صراط مستقیم کو پہلے بیان فرمایا ہے صراط مستقیم کو بتانے والے بعد میں بیان فرمائے گئے۔ نعمت کو مقدم بیان فرماتے ہیں تاکہ طبیعت میں انشراح اور خوشی پیدا ہوجاوے اور نعمت جن کے ذریعے سے ملے گی ان کو بعد میں بیان فرمایا تاکہ اس مسرت اور انتظار شوق کے سبب منعم علیہم کی اتباع آسان ہوجائے۔ قرآن کے لطائف کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا ہے ؎

بمیرد تشنہ مستسقی ودریا ہمچناں باقی

پیاسا دریا کے کنارے پانی پیتا پیتا مرجائے گا لیکن دریا کا پانی اسی طرح جوش مارتا رہے گا۔

امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ عالم آخرت کا پل صراط اسی صراط مستقیم کی صورت مثالی ہے۔

پس جو لوگ دنیا میں صراط مستقیم پر چل رہے ہیں کل قیامت کے دن وہ لوگ بآسانی پل صراط کو عبور کرجائیں گے۔

اب حق تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہم سب لوگوں کو اﷲ تعالیٰ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اور صراط مستقیم پر چلنے کے لیے منعم علیہم بندوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور صراط مستقیم ہی پر خاتمہ فرمائیں۔

واخردعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین

وما توفیقی الا باﷲ العلی العظیمo

صراط مستقیم کے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دامت فیوضہم العالیہ

صدر دارالعلوم کراچی کی رائے

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

بر صراط مستقیم اے دل کسے گمراہ نیست

پورے قرآن کا خلاصہ سورۂ فاتحہ ہے اسی لیے اس کا نام قرآن عظیم بھی ہے اور اس کا خلاصہ بندہ کی طرف سے ایک درخواست ہے اور وہ درخواست صراط مستقیم کی ہے۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ مقصود المقاصد تو رضائے حق یا جنت ہے درخواست اسی کی ہونا چاہیے تھی اس کے بجائے صراط مستقیم کی درخواست کو سب سے اہم قرار دے کر ہر نماز کی ہر رکعت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وجہ یہ ہے کہ اس جہان میں جو چیز نقد حاصل ہوتی ہے اور اس کا حصول انسان کو بھی معلوم ہوسکتا ہے وہ صراط مستقیم ہی ہے۔ رضائے الٰہی اور حصول جنت امر مخفی ہے جو صراط مستقیم کے لیے لازم ہے اس لیے درخواست اس چیز کی پیش کی گئی جو اس جہان میں نقد ملتی ہے یعنی صراط مستقیم یہی اس جہان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ مگر افسوس ہے کہ نماز پڑھنے والے مسلمان بھی اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں۔

مخدومی حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری دامت برکاتہم نے بڑا احسان فرمایا کہ اس موضوع پر ایک مختصر تصنیف میں ایک بے نظیر مضمون حوالہ قلم فرماکر رشد و ہدایت کا ایک عظیم دروازہ کھول دیا۔

مجھے امید ہے کہ اس رسالہ کو ہر دیکھنے والا اپنے قلب میں ایک نور محسوس کرے گا۔

واﷲ الموافق والمعین

بندہ محمد شفیع عفا اﷲ عنہ

(۲۰؍صفر المظفر ۱۳۸۱ھ)

…………………

شراب کے حرام ہونے کا ثبوت قرآن سے

عرض جامع

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد احقر جامع عرض کرتا ہے کہ عرصہ دو سال پہلے حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری کی خدمت میں ایک افسر صاحب حاضر ہوئے تھے اور انہوں نے حضرت والا سے سوال کیا تھا کہ بعض افسران مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ شراب کے متعلق جب قرآن کریم میں لفظ حرام نہیں آیا ہے تو پھر علماء اس کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں حضرت والا نے ایک مبسوط تقریر فرمائی اور قرآن کریم سے شراب کی حرمت کا بیّن ثبوت پیش فرمایا اور مجھ سے ارشاد فرمایا کہ یہ تقریر حق تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام ہے اس کو ضبط کرکے شائع کردینی چاہیے تاکہ ہمارے تمام وہ نادان مسلمان بھائی بھی آگاہ ہوجائیں جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ بحکم حضرت والا دامت برکاتہم یہ مسودہ تیار کیا گیا اور تیاری کے بعد افسر موصوف نے اس کی طباعت و اشاعت کا وعدہ کرکے اس مسودہ کو تقریباً دو سال تک اپنے پاس رکھا۔ لیکن موصوف اپنی کسی مجبوری کے سبب اس مضمون کو طبع نہیں کراسکے۔ ہر چند کہ بعض احباب مخلصین ،اس مضمون کی طباعت کے لیے مجھے بار بار اسی اثناء میں متوجہ کرتے رہے۔ لیکن ان دنوں کچھ ذہنی انتشار کے سبب اس امر کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ مگر جب حق تعالیٰ کی طرف سے کسی کام کا وقت آجاتا ہے تو غیب سے اس کے اسباب اور دواعی بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ کل ۲۶؍ رمضان المبارک ۱۳۸۲؁ھ کو برنس روڈ کراچی سے میں اپنے ایک کرم فرما دوست کے ہمراہ گذر رہا تھا کہ ان کے جاننے والے دو حضرات آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ قرآن کریم میں شراب کو کہیں حرام نہیں فرمایا گیا ہے۔ اس گفتگو سے قلب پر ایک چوٹ سی لگ گئی اور اپنی سستی پر سخت ندامت ہوئی۔ قلب میں اس شدید داعیہ اور اس چوٹ کو لیے ہوئے احقر نے حضرت والا پھولپوری سے عرض کیا کہ حضرت آج اس قسم کا واقعہ پیش آیا ہے جس سے میرے قلب پر شدید اثر ہے اور سخت بے چینی کے ساتھ یہ داعیہ پیدا ہورہا ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو شراب کے متعلق آپ کا مسودہ طبع کراکے سارے ملک میں پھیلادیا جائے۔ امید ہے کہ ان نادان مسلمانوں کو اس غلط فہمی سے متنبہ ہوکر شراب نوشی سے توبہ نصیب ہوجاوے یا کم از کم علم صحیح حاصل ہوجانے سے شراب حرام سمجھ کراس کا ارتکاب کریں گے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ عقیدہ تو درست رہے گا اور عقیدہ کی درستی سے بالآخر عذاب میں کچھ دن مبتلا ہونے کے بعد مغفرت کی امید ہے اور اس تقریر کا منشاء شراب نوشی پر جری کرنا نہیں ہے بلکہ ہمیں ان نادان مسلمانوں کو کفر سے بچانا مقصود ہے جو حرام کو حلال سمجھے ہوئے ہیں۔ عقائد کا متفقہ مسئلہ ہے کہ حرام جانتے ہوئے فعل حرام کا ارتکاب تو گناہ کبیرہ اور حرام ہے لیکن فعل حرام کو حلال سمجھ کر ارتکاب کرنا کفر ہے کیونکہ یہ شخص قانون شاہی کا تحریف کرنے والا ہے۔ حضرت والا پھولپوری دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا کہ رسالہ ہذا کی طباعت کا اب وقت معلوم ہوتا ہے۔ میاں جب چاہتے ہیں تو اسی طرح غیبی سامان پیدا فرمادیتے ہیں اور حضرت والا نے یہ بھی حکم فرمایا کہ اس واقعہ کو بھی جو رسالہ ہذا کی طباعت کا داعی اور سبب قریب ہوا ہے تحریر کردیا جاوے حق تعالیٰ شانہ اس رسالہ کے نفع کو عام اور تام فرماویں، آمین۔

احقر جامع……محمد اختر عفا اﷲ عنہ

(مورخہ ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۸۲؁ھ، بروز جمعہ۔)

شراب کے حرام ہونے کا ثبوت قرآن سے

فاعوذباﷲ من الشیطان الرجیم

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

یسئلونک عن الخمر والمیسر

قل فیہما اثم کبیروا منافع للناس واثمہما اکبر من نفعہما

(سورہ البقرۃ: پارہ:۲)

ترجمہ: لوگ آپ سے (یعنی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے) شراب اور قمار کی نسبت دریافت کرتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ ان دونوں میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں بھی ہیں اور لوگوں کو فائدے بھی ہیں اور گناہ کی باتیں ان فائدوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔

ان آیتوں سے حق تعالیٰ شانہ نے بندوں کو مطلع فرمایا کہ شراب سے جتنا نقصان ہوجاتا ہے اتنا نفع نہیں ہوتا کیونکہ نفع تو عارضی ہے اور نقصان کی حد نہیں جب عقل زائل ہوگئی تو انسانیت کا شرف ہاتھ سے جاتا رہا۔ عقل ہی کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے پس شراب پینا گویا اپنی اس عزت اور شرافت کو اپنے ہاتھوں کھوبیٹھنا ہے۔ سب سے پہلے شراب کے متعلق یہی آیتیں نازل فرمائی گئیں۔ اب اگر کوئی سائنس دان یہ دعویٰ کرے کہ شراب میں نقصان سے زیادہ نفع ہے تو ہم اسے جاہل اور حقیقت سے بے خبر کہیں گے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ مخلوق کا علم خالق حقیقی کے علم کا مدمقابل نہیں بن سکتا۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ اے لوگو! تمہیں علم قلیل عطا کیا گیا ہے۔ اور اپنے علم کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں الا یعلم من خلق بھلا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے۔ دن رات کے مشاہدات شاہد ہیں کہ اہل سائنس آج جس تحقیق پر مطمئن ہیں چند دن کے بعد جب اپنی غلطی کا ان کو انکشاف ہوجاتا ہے تو اپنی سابقہ تحقیق کی خود ہی تردید شائع کرتے رہتے ہیں۔ برعکس خالق حقیقی کا علم احتمال خطا سے پاک ہے ارشاد فرماتے ہیں ولن تجد لسنۃ اﷲ تبدیلا۔ اور تم اﷲ کے دستور میں کبھی کوئی تبدیلی نہ پائوگے۔

ایک مومن کے لیے قرآن کا اتنا ہی فرمان کہ شراب میں اثم کبیر یعنی بڑا گناہ ہے شراب سے احتیاط کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ ہرگناہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کا منشاء حق تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اور ہر نافرمانی سبب ناراضی ہے پس مومن اپنے اﷲ کی ناراضی کو کب گوارا کرسکتا ہے۔ مومنین کاملین کی شان تو یہ ہے کہ یبتغون فضلا من اﷲ و رضوانا حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہر وقت ہمارے فضل کو اور ہماری خوشنودی کو ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ ہم کون سا ایسا عمل اختیار کریں کہ ہمارا پروردگار حقیقی ہم سے خوش ہوجائے۔

(جاری ہے۔)