معرفت کے بغیر واقفیت نہیں ہوتی
جب واقفیت نہیں ہوتی تو آدمی تصوف کو افسانہ سمجھتا ہے ، اللہ والوں کی صحبت میں جانے کو حقیر سمجھتا ہے۔ اس کی مثال حکیم الامت دیتے ہیں کہ اکبر بادشاہ شکار پر گئے،وہاں پیاس لگی تو بکری چرانے والے ایک چرواہے نے اپنی بکری کا دودھ پلادیا۔ اکبر بادشاہ نے اس کو دستخط کرکے اپنا کارڈ دے دیا کہ اگر دہلی آؤ گے تو ہم بھی تمہاری خاطر کریں گے، کیوں کہ ہم بادشاہ ہیں۔ اب تو یہ چرواہا بڑا خوش ہوا اور بیوی کو خوش خبری سنادی کہ ہم نے بادشاہ کو دودھ پلادیا اب تو ہمارے مزے ہیں، روزانہ گائے کھائیں گے۔ اب یہ اسی حالت میں شاہی محل پہنچا، چوں کہ غریب آدمی تھا، لباس بھی پھٹا پرانا تھا چناں چہ سپاہی نے اس کو دھکا دیا کہ کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں بادشاہ سے ملنے جارہا ہوں، سپاہی نے حقیر سمجھ کر دیہاتی کو ایک لات لگائی کہ تو بادشاہ سے کیا ملے گا۔لات لگنے سے وہ گر گیا اور اس نے کہا کہ کیا تم ہم کو حقیر سمجھتے ہو؟ جیسے ایک اللہ والے کو لوگوں نے حقیر سمجھا تو انہوں نے کہا؎
رخ زرین من منگر کہ پائے آہنیں دارم
چہ می دانی کہ در باطن چہ شاہِ ہم نشیں دارم

میرا پیلا چہرہ مت دیکھو ، میرے پیر لوہے کے ہیں، تو کیا جانتا ہے کہ باطن میں میں کتنا بڑا بادشاہ رکھتا ہوں۔ تو اس چرواہے نے کہا کہ تمہیں پتا ہے کہ میں کون ہوں؟ اور اپنی لنگوٹی سے کارڈ نکالا اور کہا کہ دیکھو اس پر کس کے دستخط ہیں۔اب سپاہی کانپنے لگا اور اس کے پیروں پر گر گیا اور کہنے لگا کہ بھائی گستاخی معاف کرنا، مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ چھپے رستم ہیں، آپ تو بادشاہ کے مقرب ہیں۔ جب وہ بادشاہ سے ملا تو بادشاہ نے بڑاا کرام کیا اور کہا کہ اس کے لیے شاہی فیرنی پکواؤ، فیرنی میں پسے ہوئے چاول ڈلوائے، شان دار شکر ڈلوائی، چاندی کا ورق لگوایا اور کیوڑہ کا عرق ڈلوایا۔ جب چرواہا دسترخوان پر بیٹھااور اس کے سامنے فیرنی پیش کی گئی تو اس نے بڑی گالیاں دیں کہ اے بادشاہ جب تجھ کو پیاس لگ رہی تھی اور تو مررہا تھا تو اس مصیبت میں میں نے تجھے اپنی بکری کا دودھ پلایا اور تو اس کے بدلے میں مجھے یہ بلغم کھلا رہا ہے۔بادشاہ نے اس سے لاکھ کہا کہ میرے کہنے پر ذرا اسے چکھ تو لو مگر وہ وہاں سے اٹھ کر بھاگ گیا؎