تحفظ مدارس کی تحریک
تحفظ مدارس کی تحریک
علماء کنونشن اسلام آباد اور کراچی


الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے دینی مدارس کا خالص علمی‘ تحقیقی ماحول اور آزاد نظامِ تعلیم اربابِ اقتدار کی نگاہوں میں بُری طرح کھٹک رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جب تک یہ مدارس اور ان کا آزاد تعلیمی نظام حکومتی تحویل میں نہیں آجاتا‘ اس وقت تک اس سے فارغ ہونے والے علمأ کو نکیل نہیں ڈالی جاسکتی‘ اور نہ ہی ان سے اپنی منشا کے مطابق دین و مذہب میں تحریف اور کتروبیونت کرائی جاسکتی ہے۔ اس لئے صدر ایوب خان کے دور سے لے کر ہر نئی حکومت نے اس ”کارِ خیر“ کو سرانجام دینے کا بیڑہ اٹھایا‘ اور اپنی بساط بھر سعی و کوشش کی۔ موجودہ فوجی حکومت اور فوجی حکمران جناب صدر پرویز مشرف صاحب بھی روز اوّل سے اس فکر میں گھلے جارہے ہیں‘ اپنے تئیں انہوں نے اور ان کے مشیرانِ باتدبیر نے اپنے اسلاف کی فکر کو نئے خطوط اور جدید انداز سے اٹھایا۔ چنانچہ سب سے پہلے یہ خوشنما نعرہ لگایا گیا کہ: دینی مدارس کو رجسٹرڈ کرکے انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔ حالانکہ دینی مدارس پہلے سے ہی ۱۸۶۰ء کے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹر تھے‘ مگر حکومت نے اس سابقہ رجسٹریشن کو ناکافی تصور کرتے ہوئے اس ایکٹ میں ایسی ترمیمات فرمائیں کہ اگر اس جدید اور ترمیم شدہ ایکٹ کو مان لیا جائے تو کسی دینی مدرسہ اور عصری اسکول میں کوئی فرق باقی نہ رہے گا‘ گویا یہ دینی مدارس کو ختم کرنے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ جب اس پر اعتراض کیا گیا اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تو فرمایا گیا کہ: موجودہ دینی مدارس سے صرف علمأ پیدا ہورہے ہیں‘ جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان سے جس طرح علمأ پیدا ہوتے ہیں‘ ویسے ہی ڈاکٹر‘ انجینئر اور وکلاء بھی پیدا ہوں اور ہماری خواہش و کوشش ہے کہ دینی مدارس سے نکلنے والے علمأ ہر شعبہٴ زندگی میں خدمات انجام دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں ‘ جب ان عقل مندوں کو یہ باور کرایا گیا کہ: اگر میڈیکل کالج اور یونیورسٹیوں سے انجینئر اور وکلاء پیدا کرنے کی فرمائش نہیں کی جاتی تو دینی مدارس سے یہ توقع کیوں کی جاتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ: دینی مدارس میں انگلش‘ سائنس اور دوسرے مضامین کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟ جب عرض کیا گیا کہ: دینی مدارس میں پہلے سے ہی میٹرک کا نصاب زیر تعلیم ہے اور کسی دینی مدرسہ کا نظامِ تعلیم کسی بھی عصری اور سرکاری اسکول کے معیارِ تعلیم سے کم نہیں‘ بلکہ اس سے بڑھ کر ہے ‘تو فرمان جاری ہوا کہ: ان مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلبأ کو نکال دیا جائے‘ وہ ملکی سا لمیت کے لئے خطرہ ہیں‘ وہ اپنے اپنے ملک سے این او سی لے کر آئیں‘ ورنہ انہیں نکال دیا جائے گا‘ اور ۳۱/دسمبر ۲۰۰۵ء ان طلبہ کے اخراج کی آخری تاریخ قرار دے دی گئی‘ جب ان کی خدمت میں بصد ادب عرض کیا گیا کہ: دینی مدارس میں پڑھنے والے تمام طلبہ کے پاس پاکستان کے تعلیمی ویزے ہیں اور وہ پاکستان کے دینی مدارس سے فارغ ہوکر اپنے اپنے ملک میں پاکستان کی نمائندگی اور سفارت کا کام دیتے ہیں‘ تو فرمایا گیا: ہم دینی مدارس کے ان طلبہ کو نکال کر رہیں گے اور جو مدارس اس کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے‘ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح دینی مدارس کو جدید رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ۳۱/دسمبر ۲۰۰۵ء تک رجسٹر کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا اور یہ فرمانِ شاہی جاری ہوا کہ: جو مدارس ۳۱/دسمبر تک رجسٹریشن نہیں کرائیں گے‘ ان کو بند کردیا جائے گا۔ اربابِ مدارس‘ علماء‘ اربابِ علم و دانش‘ سیاسی زعماء‘ تمام مسالک کے دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم: ”اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ پاکستان“ اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ذمہ داران نے بھرپور کوشش کرکے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ دینی مدارس اور دینی طلبہ کے خلاف آپ کا یہ اقدام کسی طرح قابل تحسین نہیں ہے‘ اس سے جہاں ملک میں خلفشار ہوگا‘ وہاں دنیا بھر کے مسلمانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ جائے گی اور بیرونی دنیا کے مسلمان طلبہ پاکستان کے بجائے بھارت کا رخ کریں گے‘ جو دینی‘ علمی اور سیاسی اعتبار سے نہ صرف نقصان دہ ہے‘ بلکہ اس سے دنیا بھر میں اہالیانِ پاکستان اور خود پاکستان کی بدنامی ہوگی‘ مگر افسوس کہ اس پر بھی کان نہیں د ھرا گیا تو مجبوراً علمأ کرام نے غیر ملکی مہمان طلبہ کے مستقبل اور دینی مدارس کے تحفظ کی خاطر ملک بھر میں جلسے‘ جلوس اور کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا‘ چنانچہ اس سلسلہ کا پہلا کنونشن یکم ذوالحجہ ۱۴۲۶ھ مطابق ۲/جنوری ۲۰۰۶ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا‘ جس میں درج ذیل علمأ اور سیاسی و مذہبی تنظیموں کے راہ نما شامل ہوئے:
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن ‘ مولانا سمیع الحق‘ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان‘ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رئیس جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ‘ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی‘ مولانا فضل الرحیم‘ مولانا انوارالحق‘ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری‘ مولانا مفتی سرفراز نعیمی‘ قاری گل رحمن‘ مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی‘ مولانا حافظ محمد اقبال‘ مولانا قاری سعید الرحمن‘ مولانا قاضی عبدالرشید‘ مولانا قاضی عصمت اللہ‘ مولانا ظہور احمد علوی‘ مولانا عبدالعزیز حنیف‘ مولانا اشرف علی‘ مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان‘ مولانا مفتی قاضی محمد اویس‘ مولانا محمد نذیر فاروقی‘ مولانا قاضی محمود الحسن‘ مولانا قاری عبدالمالک‘ مولانا مفتی محمد نعیم‘ مولانا عبدالقیوم‘ مولانا محمد طیب‘ مولانا فتح محمد‘ مولانا قاری عبدالرشید ایڈووکیٹ‘ مولانا عبدالجلیل‘ مولانا عبدالکریم‘ مولانا اسعد اللہ عباسی اور ملازم حسین وغیرہ۔
اس کنونشن میں سیاسی‘ مذہبی اور تعلیمی اداروں اور اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کے حضرات نے جس دل سوزی اور درد و کرب سے حکومت کو اس اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کیا اور جن جن مسائل کو اٹھایا گیا‘ اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
”اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) مفتی اعظم پاکستان‘ مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک کے دارالحکومت میں آج ہم فریاد کررہے ہیں کہ بچوں کو نماز سکھانے کا طریقہ حکومت نے جو بند کردیاہے‘ یہ فیصلہ کسی کافر حکمران نے بھی نہیں کیا‘ یہ خدا کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں جامعہ محمدیہ میں اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے زیر اہتمام علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مفتی محمد رفیع عثمانی نے مزید کہا کہ حکمرانوں نے اگر اسلامی تعلیمات کو نصاب سے نکالا‘ مدارس کے طلبہ کی راہ میں روڑے اٹکائے تو پھر خونی طوفان آئے گا‘ یہ میں دھمکی نہیں دے رہا‘ اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہوں‘ حکمرانو! ان لوگوں کے دل نہ دکھاؤ جنہوں نے اس ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے قربانیاں دی ہیں‘ فوج کو بلوچستان اور شمالی علاقوں میں آپریشن کرکے بدنام نہ کریں۔ فوج کو مدارس سے لڑانے کی تیاری کی جارہی ہے‘ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مدارس کی اسناد پوری دنیا میں قبول کی جاتی ہیں‘ جبکہ تمہاری سندیں دنیا میں کہیں قبول نہیں‘ ہم انگریزی زبان اسلام کی دعوت دینے کے لئے پڑھاتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پورے ملک میں دینی مدارس کے خلاف اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے‘ حکمران یاد رکھیں! اسلام اور اسلامی تعلیمات کے بغیر یہ ملک زندہ نہیں رہ سکتا‘ حکمرانوں کو سیاہ و سفید کا مالک نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ لوگ صوفی ہیں‘ آج ہم نے وہ منظر دیکھا کہ جو مدرسہ حقیر تھا اور جو طلبہ حقیر تھے‘ آج عالمی قوتیں ان کو اپنے لئے خطرہ سمجھ رہی ہیں‘ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے اکابر نے جو تیر پھینکا تھا‘ وہ اپنے نشانے پر لگا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکا اور مغربی دنیا مدارس کو نشانہ نہ بنائیں‘ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے‘ یہ نظریہ زندہ رہے گا‘ ہم صرف دینی مدارس ہی کی نہیں‘ بلکہ عصری تعلیمی اداروں کے نصاب کی بھی جنگ لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی تعریف کے لحاظ سے شہادة العالمیہ کے حامل ہی مملکت کا تقاضا پورا کرسکتے ہیں‘ کیا ہماری سندیں آئین کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں؟ ہماری سندوں پر عدالتی فیصلے سیاسی ہیں‘ مدارس کے نصاب اور غیر ملکی طلبہ کی جنگ لڑیں گے‘ اس حوالے سے ملک گیر کنونشن اور مظاہرے ہوں گے اور آخر میں پوری قوم کو اسلام آباد میں لانے کی ضرورت پڑی تو لائیں گے‘ کسی غیر ملکی طالب علم کو واپس نہ جانے دیا جائے‘ اگر وہ گرفتاریاں کرتے ہیں تو گرفتاریاں دیتے جاؤ‘ جیل بھر دو‘ علماء کرام پر بستہ الف اور ب کے قائم کردہ مقدمات ہم تسلیم نہیں کرتے‘ اگر وہ گرفتار کرتے ہیں تو گرفتاریاں دے دو‘ ہم جنگ نہیں چاہتے‘ حکمران یہ سارے احکامات واپس لیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا زلزلہ زدہ لوگوں کو امداد پہنچارہی ہے‘ مگر ہماری فوج شمالی علاقہ جات میں آپریشن میں مصروف رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کالے قانون جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں‘ ہم اس کی مکمل مزاحمت کے لئے تیار ہیں اور مجلس عمل‘ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے شانہ بشانہ ہے‘ حکمرانوں کا مدارس کے نصاب اور طلبہ پر حملہ سیاسی‘ آئینی اور شرعی مسئلہ ہے‘ اس سے قوم کا کوئی فرد الگ نہیں ہوسکتا۔ سینیٹر مولانا سمیع الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایک طویل جنگ ہے اور یہ جنگ ایک سرے پر لگے گی‘ یہود و نصاریٰ سمیت تمام عالم کفر ایک ہوچکے ہیں اور ان سب کا ایجنڈا ایک ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما و ممبر قومی اسمبلی قاری گل رحمن نے کہا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے کہا گیا کہ عراق میں انتخابات ہوچکے ہیں‘ آپ واپس کیوں نہیں جاتے؟ تو اس نے کہا: ”ابھی تو اسلام باقی ہے۔“ ہم مدارس اور اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں اور مشرف یا امریکا کی پالیسیاں نہیں مانتے۔ جمعیت علماء اسلام کے سیکریٹری جنرل و ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہماری سندوں کو بے وقعت کرنے کے لئے عدالتوں سے فیصلے کرائے جارہے ہیں‘ عدالتوں کے فیصلے یا تو دباؤ پر ہوتے ہیں یا بریف کیس کے ذریعے ہوتے ہیں‘ ہم ایسے فیصلوں کو نہیں مانتے اور جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔ جامعہ خیر المدارس ملتان کے رئیس مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ حکمران ایک عرصے سے دینی مدارس کو مٹانے کی تحریک چلائے ہوئے ہیں‘ ہم آج سے دینی مدارس ‘اسلام اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کی تحریک کا منظم طریقے سے اعلان کرتے ہیں‘ یہ سال دینی مدارس‘ اسلام اور پاکستان کے تحفظ کا سال ہے‘ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر ایک رپورٹ کئی سال پہلے جاری کی گئی تھی‘ جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان کے دینی مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلبہ کو نکالیں گے‘ اس لئے یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور دروغ گوئی سے باز آجائیں‘ ہمارے مدارس میں کوئی طالب علم غیر قانونی نہیں‘ یہاں سے جانے والے طلبہ احتجاجاً واپس گئے ہیں‘ وہ نفرت کا پیغام لے کر گئے ہیں‘ ان کے والدین نے کہا کہ اپنے بچوں کو ہم نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا تھا‘ مگر پاکستان نے ان کو مجرم قرار دے دیا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر اور مجلس عاملہ کے رکن‘ جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک میں دینی علم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ پر پابندی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا آرٹیکل نمبر ۱۸ کہتا ہے کہ: ہر انسان کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دین کو سیکھے اور پھیلائے‘ آج یہ حق یہود و نصاریٰ استعمال کررہے ہیں‘ مگر مسلمانوں کو اس حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ کنونشن سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے رکن حافظ فضل الرحیم اشرفی‘ مفتی محمد طیب‘ رابطة المدارس کے نمائندہ مولانا فتح محمد‘ تنظیم المدارس کے صوبائی ناظم مولانا ضیاء الحق شاہ‘ تنظیم المدارس کی مجلس عاملہ کے رکن حافظ محمد اقبال اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔“ (روزنامہ اسلام کراچی یکم ذوالحجہ ۱۴۲۶ھ بمطابق ۲/جنوری ۲۰۰۶ء)
اس کنونشن میں اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کی جانب سے درج ذیل قراردادیں بھی پیش کی گئیں:
”اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ نے مدارس سے غیر ملکی طلبہ کے اخراج‘ دینی مدارس کی اسناد پر عدالتی فیصلوں‘ اسکولوں کے نصابِ تعلیم سے نماز کے اخراج‘ ملک میں فحاشی و عریانی کو فروغ دینے‘ علمأ کرام کو بستہ الف اور ب کا مجرم قرار دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت یہ تمام فیصلے فوری طور پر واپس لے۔ ان خیالات کا اظہار اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کے زیر اہتمام کنونشن میں قاری عبدالکریم‘ مولانا محمد نذیر فاروقی‘ مولانا اسحاق نظیری‘ مولانا ظہور احمد علوی و دیگر نے قراردادیں پیش کرتے ہوئے کیا۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ:
۱:… آج کا یہ اجتماع حکومت سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس سے غیر ملکی طلبہ کے اخراج اور انہیں ان کے ملک میں زبردستی بھیجنے کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے‘ کیونکہ یہ غیرشرعی‘ غیر آئینی اور مسلمہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔
۲:… یہ کنونشن اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ آئندہ بھی غیر ملکی طلبہ کے لئے دینی تعلیم کے دروازے کھلے رکھے جائیں‘ کیونکہ اس نوع کی پابندیاں بلاجواز ہیں‘ پاکستان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں دنیا کے کونے کونے سے علم کے شائقین اپنی علمی پیاس بجھانے آتے ہیں اور اس سے پاکستان کی دنیا بھر میں نیک نامی میں اضافہ ہوا ہے‘ اور یہ فیصلہ صراحتاً نا انصافی پر مبنی ہے کہ عصری علوم کے لئے تو غیر ملکی طلبہ پر کوئی پابندی نہ ہو‘ لیکن دینی تعلیم پر پابندی ہو‘ جو نظریہ پاکستان اور دینی روایات سے انحراف ہے۔
۳:… اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کا یہ نمائندہ علمأ کنونشن‘ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس کی سند کی وہی حیثیت بحال کی جائے جو انتخابات سے قبل تھی‘ دینی سند کو مجروح کرنے کی یہ ناکام کوشش دینی عناصر کو ملکی معاملات سے الگ تھلگ کرنے کی سازش ہے‘ حالانکہ ملکی امور کی سوجھ بوجھ اور فہم و فراست میں دینی علوم کے ماہر علمأ کرام کسی سے کم نہیں۔
۴:… علماء کنونشن کا یہ اجتماع اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ بیرونی قوتوں کے ایما پر سیکولر اور غیر اسلامی تہذیب کو رواج دینے کے لئے نصابِ تعلیم کو نہایت بھونڈے طریقے سے تبدیل کیا جارہا ہے‘ قرآنی آیات‘ احادیث‘ جہاد کی تعلیمات اور عبادات بالخصوص نماز کو نصابِ تعلیم سے خارج کرنے کی مذموم کوشش دینی معاملات میں صریح مداخلت ہے‘ پاکستان کے غیور عوام اس طرح کی سازشوں کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘ غیر ملکی قوتوں کے ایما پر نصابِ تعلیم میں تبدیلی اس ملک کے عوام کو اسلامی تشخص سے محروم کرنے کی سنگین سازش ہے‘ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ہمارا نظامِ تعلیم بالعموم اسلامی اقدار سے ہم آہنگ رہا ہے‘ یہ پہلی حکومت ہے جو نصاب ِتعلیم کو یکسر سیکولر بنانے کی ناپاک جسارت کررہی ہے‘ انشاء اللہ ہم ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
۵:… اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کا یہ نمائندہ علمأ کنونشن حکومت کی سرپرستی میں بے حیائی اور فحاشی کو منظم طریقے سے فروغ دینے کی مہم کی شدید مذمت کرتا ہے‘ بالخصوص میراتھن ریس اور میڈیا میں عریانی کے مناظر اور جنسی اشتہارات کی اشاعت جیسے حیاء سوز اقدامات اس قوم کی دینی حمیت اور ملی غیرت کے لئے چیلنج ہیں‘ اگر ان اقدامات کو نہ روکا گیا تو حکمرانوں کو شدید عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا‘ ہم بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ نام نہاد روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے پس پردہ غیر ملکی آقاؤں کے عزائم کی تکمیل کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔
۶:… یہ علمأ کنونشن ملک بھر میں دینی مدارس سے علمأ اور طلبہ کی غیر قانونی اور ناروا گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتا ہے‘ دینی مدارس کے طلبہ نہایت پُرامن ماحول میں قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ اور پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ دینی ادارے کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی یا غیر اخلاقی حرکت یا جرائم میں ملوث نہیں رہے ہیں‘ یہ ادارے پُرامن ماحول کی تعمیر میں ہمیشہ ممدو معاون رہے ہیں‘ ان دینی اداروں کی وجہ سے عوام کا دینی اقدار اور روایات سے گہرا تعلق ہے‘ جس کی وجہ سے معاشرے سے برائی مٹتی ہے اور نیکی کو فروغ حاصل ہوتا ہے‘ دینی اداروں میں حکومتی مداخلت‘ آئے دن پولیس کے چھاپے‘ ایجنسیوں کی بار بار پوچھ گچھ اور مقامی انتظامیہ کے ذمہ داران کا شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کا طرز عمل انتہائی تشویش ناک ہے‘ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے مدارس میں خصوصی طور پر اور پورے ملک میں عمومی طور پر علمأ کرام کو ضمانتوں کے بہانے تنگ کرنے کے رویئے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
۷:… یہ نمائندہ کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ اس قسم کی گرفتاریوں اور بے جا مداخلت کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے اور غیر قانونی اقدامات کرنے والے افسران کو برطرف کیا جائے۔ “
(روزنامہ اسلام کراچی یکم ذوالحجہ بمطابق ۲/جنوری ۲۰۰۶ء)
اسلام آباد کے کنونشن ہی میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگلا کنونشن صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں منعقد ہوگا۔ چنانچہ اسی فیصلہ کے تحت ۲۵/جنوری ۲۰۰۶ء کو پورے ملک بلکہ عالم اسلام کی معروف دینی اور تعلیمی یونیورسٹی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں اس سلسلہ کا دوسرا کنونشن منعقد کیا گیا‘ جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سب سے پہلے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے مہمانوں کو درج ذیل کلماتِ ترحیب پیش کرتے ہوئے خوش آمدید کہا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا:
”محدث العصر ‘ عاشقِ رسول‘ قائد تحریکِ ختم نبوت‘ حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہ‘ کا قائم کردہ روحانی اور علمی مرکز جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اپنے اس اعزاز پر تہہ دل سے اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کے راہ نماؤں کا شکر گزار ہے کہ انہوں نے مدارسِ دینیہ کے تحفظ‘ ان کی حریت و آزادی کو سلب کئے جانے والے اقدامات اور غیر ملکی طلبہ کو ظالمانہ انداز میں ملک بدر کرنے کے حکومتی فیصلہ کو مسترد کرنے کے بعد احتجاجی تحریک کے دوسرے ملک گیر اجتماع کی میزبانی کے لئے اس علمی مرکز کو منتخب کیا‘ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا ہر‘ ہر فرد اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کے قائدین‘ علمأ کرام‘ مشائخ عظام‘ اربابِ اہتمام اور متحدہ مجلس عمل کے قائدین کو اس عظیم کنونشن میں تشریف آوری پر صمیمِ دل سے خوش آمدید کہتا ہے۔
محترم مہمانانِ گرامی! موجودہ صورتِ حال پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے سخت آزمائش ہے‘ کمیونزم کے خاتمہ اور روس کی شکست و ریخت کے بعد امریکا پوری دنیا میں اسلام دشمن کی حیثیت سے ابھرا‘ اس نے اسلام اور اسلامی تہذیب کو ختم کرکے مغربی تہذیب کو مسلط کرنے کی کوششیں شروع کررکھی ہیں اور اسلام کی سربلندی کو اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھ رہا ہے‘ اسلام دشمن اور عالمی دہشت گرد امریکا کے خلاف دنیا بھر میں جہاں کہیں امت مسلمہ نے مزاحمت کی‘ اس کی قیادت و سیادت دینی مدارس سے وابستہ علمأ کرام کے حصہ میں آئی‘ جس کی وجہ سے امریکا‘ مغرب اور یہودی لابی کی نگاہوں میں دینی مدارس کھٹکنے لگے اور دینی مدارس کے خلاف مذموم پراپیگنڈا مہم شروع کردی گئی‘ اور ہر اسلامی حکومت کو دینی مدارس کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کیا گیا کہ وہ ان مدارس کے نصاب میں مداخلت کریں‘ ان کی حریت و آزادی کو سلب کرلیں اور مدارس کی خدمات کو یکسر نظر انداز کرکے ان کے خلاف منفی پراپیگنڈا کریں‘ یہاں تک کہ سعودی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مدینہ یونیورسٹی‘ مکہ یونیورسٹی کے نصاب سے قرآن و حدیث کی تعلیم کو ختم یا جہاد سے متعلق آیات کو حذف کرے۔
علمائے کرام نے ہر دور میں اس دباؤ کو نہ صرف یہ کہ مسترد کیا‘ بلکہ مدارس کی حریت و آزادی کی اپنی جان سے بڑھ کر فکر کی‘ افغانستان کی اسلامی حکومت اور عراق کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد امریکا کے حوصلے اتنے بلند ہوئے کہ اس نے پاکستان کی حکومت کو مدارس کے خلاف اقدامات کے لئے براہ راست احکامات دینا شروع کئے‘ امریکی ہدایات پر حکومت نے مدارس میں مداخلت کا سلسلہ شروع کیا‘ ہر موقع پر اربابِ اقتدار نے مدارس کے خلاف زہر اگلا‘ رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو اپنے جال میں پھنسانا چاہا‘ غیر ملکی طلبہ کے خلاف ملک بدری کا ظالمانہ فیصلہ کیا‘ حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام قوموں کو بلاکسی تفریق مذہب‘ رنگ و نسل یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کریں‘ تو پھر پاکستان میں حکومت کو یہ حق کیسے دیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی تعلیم سے روکے؟
مدارس کی اسناد کو بے وقعت کرنا‘ علمأ کی گرفتاریاں اور مدارس پر چھاپے اسی امریکی ایجنڈے کا تسلسل ہے‘ اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کا یہ عظیم علمأ کنونشن ان تمام حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے اور ان کے خلاف بھرپور پُرامن مزاحمت کے لئے منعقد کیا جارہا ہے۔
میں‘ حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہ‘ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن‘ ڈاکٹر حبیب اللہ مختارشہید‘ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور شیخ الحدیث حضرت مفتی نظام الدین شامزی شہید کا خادم ہونے کی حیثیت سے جامعہ کے مرکز اور اس کی تمام شاخوں کی طرف سے اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ پاکستان کے رہنماؤں کو بھرپور تعاون کا یقین دلاتا ہوں کہ اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کے قائدین جو بھی فیصلے کریں گے اور جس قسم کی قربانیاں طلب کریں گے‘ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور اس کے علمأ‘ طلبہ اور متعلقین کو صف اوّل کا سپاہی پائیں گے۔“
جب اس کنونشن کی کارروائی شروع ہوئی تو جامعہ علوم اسلامیہ کی وسیع و عریض مسجد‘ جامعہ‘ اس کا احاطہ اور قرب و جوار کی سڑکیں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں‘ اسی طرح ملک بھر کے علمأ‘ صلحأ‘ مذہبی راہ نماؤں اور اربابِ مدارس کی بھرپور نمائندگی تھی‘ جبکہ متحدہ مجلس عمل کی پوری قیادت بھی موجود تھی‘ اس موقع پر کس نے کیا کہا؟ اخبارات کی زبانی سنئے:
”کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عالمی قوت کہلوانے والا امریکا جہاں کرئہ ارض کے تمام وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے‘ وہاں اس کے حصول کے لئے اس کا بڑا ہدف دینی مدارس ہیں‘ جن کو وہ اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھتا ہے‘ لیکن یہ بات عیاں ہے کہ دینی مدارس کسی کے لئے خطرہ نہیں۔
متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کنونشن میں تحریک کا اعلان کردیا گیا‘ ہم اس مسئلے پر بھی پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنی یکجہتی اسلامی تعلیمات میں ہے‘ دنیا کے کسی نصاب میں نہیں‘ ہماری تعلیم کو تبدیل کرنا امریکی ایجنڈے میں شامل ہے۔ چیئرمین ورلڈ اسلامک مشن مولانا انس نورانی نے کہا کہ آج جس طرح ہر جانب اسلام کی مخالفت کی جارہی ہے‘ اس کا تقاضا ہے کہ مخالف آج یہاں آکر علمأ کرام اور دینی مدارس کے طلبأ کا جوش و خروش دیکھ کر اندازہ کرلیں کہ ہم سب متحد ہیں اور اسلام کے خلاف ہر سازش اور حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ جامعہ خیرالمدارس ملتان کے مہتمم قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتبِ فکر کے دینی مدارس‘ اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ ۱۵ ہزار دینی مدارس کا نمائندہ ہے‘ ہم دینی مدارس کے تحفظ اور اسلام کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں‘ دینی مدارس کو دنیا کی کوئی طاقت مٹاسکی ہے اورنہ مٹاسکے گی۔
اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف کوئی اقدام برداشت نہیں کریں گے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی‘ ۲۵/ذوالحجہ ۱۴۲۶ھ بمطابق ۲۶/جنوری ۲۰۰۶ء)
اس موقع پر اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کی جانب سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا‘ جو درج ذیل ہے:
دینی مدارس اور بقائے اسلام کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے‘ بقول مفکر اسلام مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ: ”مسلمانوں کی بقا اسلام کی وجہ سے ہے اور اسلام کی بقا دینی مدارس کی وجہ سے ہے‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا مدرسہ مکہ مکرمہ میں دارِ ارقم میں قائم فرمایا اور مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد دوسرے سال صُفّہ کے عظیم مدرسہ کی بنیاد رکھی‘ جو کائنات کے تمام مدارس کی اساس اور بنیاد ہے‘ ہندو پاک اور دنیا بھر میں قائم ہزاروں مدارس اسی نبوی مدرسہ کی شاخیں اور اس روحانی گلشن کے گل و بوٹے ہیں۔“
دینی مدارس کا سلسلہ صدیوں سے قائم ہے اور گزشتہ صدی میں ہندوستان میں انہی دینی مدارس کے دم سے علوم نبوت زندہ و تابندہ ہیں‘ انہی کی وجہ سے استعمار کے جبر و استبداد کا خاتمہ ہوا‘ یہی وہ قلعے تھے جن سے دین اسلام کا دفاع ہوا‘ یہی وہ نظریاتی چھاؤنیاں تھیں‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ کی حفاظت کی‘ دینی مدارس ہی آب حیات کے وہ پاکیزہ چشمے تھے‘ جنہوں نے مسلمانوں میں دینی زندگی باقی رکھی۔ لیکن جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قائم ہونے والا مدرسہ کفر کی نگاہ میں کھٹکتا تھا‘ اسی طرح آج بھی پاکستان اور دنیا بھر کے دینی مدارس اسلام دشمنوں کی نگاہوں میں خار بنے ہوئے ہیں‘ چنانچہ بے سروسامانی کے عالم میں دین حق کی شمع کو روشن کرنے والے مدارس کو دین دشمن اپنے لئے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں‘ اس لئے دین دشمن قوتیں اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ان مدارس کو ختم کرنے‘ انہیں کمزور کرنے‘ مسلمانوں کا ان سے تعلق توڑنے اور ان کی حریت و آزادی کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں‘ نظریاتی اسلامی مملکت پاکستان میں روز اوّل سے مدارس کو حکومتی جال میں پھنسانے کی مذموم کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور مدارس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے لئے سرکاری سطح پر کوششیں جاری ہیں‘ مگر موجودہ امریکا نواز حکومت نے سابقہ تمام ظالمانہ حکومتوں سے بڑھ کر مدارس کے خلاف اقدامات کئے اور اس کو ایک مہم کے طور پر شروع کررکھا ہے‘ چنانچہ کوئی فوجی تقریب ہو یا سول تقریب‘ کسی یونیورسٹی کا کنونشن ہو یا کاکول اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ‘ کرکٹ کا میچ ہو یا حکمرانوں کا غیر ملکی دورہ‘ ہر موقع پر مدارس کے خلاف زہر اُگلا جاتا ہے‘ انہیں انتہا پسندی‘ دقیانوسیت‘ دہشت گردی کے مراکز اور دیگر نامناسب القابات سے نواز کر غیر ملکی آقاؤں سے داد لی جاتی ہے‘ چنانچہ انہی دین دشمن اقدامات کے تسلسل میں حکومت آئے دن اسلامی نظام میں ترمیم کرنے‘ اسکولوں کے نصاب سے قرآنی آیات اور احکام جہاد کو نکالنے‘ نصاب سے طریقہ نماز خارج کرنے اور نصاب میں میوزک کو داخل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ غیر ملکی طلبہ جو پاکستان کو دینی علوم کا مرکز سمجھ کر اپنے اپنے ممالک سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں‘ انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ظالمانہ طریقے سے نکلنے پر مجبور کیا جارہا ہے‘ حالانکہ یہ طلبہ قانونی دستاویزات کے ساتھ آئے ہیں اور کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں‘ دینی اقدار کا مذاق اڑایا جارہا ہے‘ داڑھی اور پردہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘ دوسری طرف میراتھن ریس کے نام پر مردوں اور عورتوں کو سڑکوں پر دوڑانے کا سرکاری انتظام کیا جارہا ہے‘ ناچ گانے‘ بے حیائی اور فحاشی کی قدم قدم پر حوصلہ افزائی کی جارہی ہے‘ حکومت کی دین دشمن پالیسیوں کے خلاف اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ پاکستان نے گزشتہ پانچ سال سے حکومت کے ساتھ مسلسل مذاکرات کئے‘ دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کی‘ مگر بیرونی دباؤ کا شکار حکمران کبھی بھی اسلام کے عالمگیر اور عادلانہ نظام کا دفاع نہ کرسکے‘ بلکہ انہوں نے ہمیشہ دین دشمنوں کی وکالت کی۔
اس لئے ملک بھر کے تمام وفاقوں‘ تنظیمات اور تمام دینی مدارس اور زعمأ کا یہ نمائندہ اجتماع اسلامی نظامِ حیات اور دینی مدارس کے خلاف تمام منفی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ اگر حکومت نے علمأ کرام‘ دینی مدارس اور ان مدارس کے ملکی اور غیر ملکی طلبہ کے خلاف اپنے ظالمانہ فیصلے واپس نہ لئے تو علمأ کرام اور اربابِ مدارس ان فیصلوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے‘ اور اگر پُرامن کوششوں کے باوجود بھی دینی مدارس کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ پاکستان‘ پاکستانی قوم اور دینی جماعتوں کے تعاون سے لاہور‘ پشاور‘ کوئٹہ اور اسلام آباد میں اسی طرح کے بھرپور اجتماعات منعقد کرے گی‘ اور اگر حکومت نے پھر بھی اپنا رویہ نہ بدلا تو سخت ترین احتجاج اور اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
اس علمأ کنونشن میں اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کی جانب سے درج ذیل قراردادیں بھی پیش کی گئیں:
۱:… اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کا یہ نمائندہ اجتماع نظریہ اسلام‘ قرارداد مقاصد اور آئین پاکستان کی دیگر اسلامی دفعات کے خلاف موجودہ حکومت کی ظالمانہ‘ منافقانہ پالیسیوں اور آئین شکنی کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے دینی مدارس کے طلبأ کے راستوں میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرنے اور غیر ملکی طلبہ کو تعلیم کی تکمیل کے بغیر ظالمانہ انداز میں ملک سے نکالنے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت سے ان اقدامات کو واپس لینے اور غیر ملکی طلبہ کے خلاف ظالمانہ فیصلوں سے متاثرہ طلبہ اور ان کے والدین سے معذرت کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
۲:… یہ اجتماع یہود‘ نصاریٰ‘ آغا خانیوں‘ قادیانیوں اور دیگر غیر ملکی سیکولر طاقتوں اور لابیوں کے ایماء پر پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے‘ حکومتی سرپرستی میں بے حیائی و فحاشی کو رواج دینے کی مذمت‘ نیز مخلوط میراتھن ریس سمیت تمام مخلوط پروگراموں پر پابندی لگانے ‘ عصری اور سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے اسلامی نظام تعلیم کے نفاذ‘ طلبہ و طالبات کے لئے اسلامی قدروں سے ہم آہنگ یونیفارم مقرر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے‘ نیز نصاب تعلیم سے نماز کا طریقہ خارج کرنے‘ اسلامیات کے مضمون کو مختصر یا ختم کرنے اور مطالعہ پاکستان سے مسلم مشاہیر کے کارناموں کو ختم کرنے کی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ وزیر داخلہ اور وزیر تعلیم کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی بنا پر انہیں فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
۳:… یہ عظیم الشان اجتماع ۸/اکتوبر کو شدید زلزلہ میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کے لئے دعائے مغفرت اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس موقع پر اہلِ پاکستان اور عالمِ اسلام کی طرف سے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ تعاون اور بے مثال ہمدردی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں صدر پاکستان کی طرف سے دینی مدارس و مساجد کے قیام کے امکانات پر تشویش پر سخت افسوس اور اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے غیور مسلمانوں سے متاثرہ علاقوں میں مساجد و مدارس کو دوبارہ بحال اور آباد کرنے میں موثر اور مربوط معاونت کی اپیل کرتا ہے۔
نیز یہ اجتماع متاثرہ علاقوں سے غیر ملکی فوجوں کی واپسی‘ غیرمسلم این جی اوز کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر گہری تشویش اور دینی جماعتوں اور اداروں کے موثر کردار پر دلی اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔
۴:… یہ عظیم الشان اجتماع پاکستان کی حدود میں آئے روز امریکی مداخلت کو ننگی جارحیت قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کے معذرت خواہانہ رویہ پر گہرے اضطراب کا اظہارکرتے ہوئے پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکا کی مسلسل مداخلت اور باجوڑ میں حالیہ انسانیت کش جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔
نیز اس جارحیت کا شکار ہونے والے بے گناہ اور معصوم بھائیوں سے ہمدردی کا اظہار اور شہید ہونے والے افراد کے لئے بلندی درجات کی دعا کرتا ہے‘ اور حکومت پاکستان سے ایسے اقدامات کی بنا پر امریکا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے‘ امریکا سے سفیر کو واپس بلانے اور امریکی سفیر کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ نیز یہ اجتماع گزشتہ کچھ سالوں سے ملکی اور غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں شہید کئے جانے والے علمأ کرام‘ مشائخ عظام کے قاتلوں کو سزا نہ دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علمأ کے قاتلوں کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے‘ اور علمأ کرام کے تحفظ کو یقینی بنانے ‘مختلف علاقوں میں علمأ کرام کے خلاف ناروا پابندیوں‘ بے بنیاد مقدمات اور بلاجواز گرفتاریوں پر گہری تشویش اور مدارس و مساجد میں پولیس کی طرف سے علمأ کرام و ائمہ عظام کو دھمکانے‘ طالبات کے مدارس میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گرفتار علمأ کرام کی فوری رہائی اور ان کے خلاف قائم تمام مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔
۵: … یہ عظیم الشان کنونشن اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کی طرف سے دینی مدارس کے تحفظ کی جدوجہد پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی قدروں کی حفاظت اور دینی مدارس کے تحفظ کے لئے تمام صوبوں اور شہروں میں منعقد ہونے والے کنونشنوں اور آخر میں اسلام آباد میں لاکھوں کے اجتماع کے انعقاد کی تائید کرتے ہوئے مکمل تعاون اور ہر طرح کی قربانی دینے کے عزم کا اعلان کرتا ہے۔ کنونشن کے اختتام پر اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ کے زعمأ اور متحدہ مجلس عمل کے قائدین نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اخبارات کے مطابق اس پریس کانفرنس کی خبر درج ذیل ہے:
”کراچی (اسٹاف رپورٹر) اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ پاکستان اور متحدہ مجلس عمل کی قیادت نے غیر ملکی طلبہ کے اخراج‘ دینی مدارس کی رجسٹریشن‘ دینی مدارس کی اسناد کو بے وقعت کرنے اور نصاب تعلیم سے طریقہ نماز کے اخراج کے حکومتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے تمام مطالبات تسلیم کرنے تک مزاحمتی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے‘ یہ اعلان بدھ کو جامعة العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں عظیم الشان علمأ کنونشن کے اختتام پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے جنرل سیکریٹری مولانا فضل الرحمن‘ اتحاد تنظیمات کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سرفراز نعیمی‘ وفاق المدارس العربیہ کے جنرل سیکریٹری قاری محمد حنیف جالندھری‘ رابطة المدارس کے صدر مولانا عبدالمالک‘ وفاق المدارس السّلفیہ کے رہنما محمد یوسف قصوری اور دیگر نے کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ غیر ملکی طلبہ کو پاکستان سے نکالنے کے فیصلے سے انڈیا فائدہ اٹھائے گا‘ اس سے پاکستان کا تشخص پامال ہوگا‘ حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی نفی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ دینی مدارس کی سند عالمیہ کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس سے نیچے کی سندوں کو تسلیم نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں آزاد نہیں ہیں‘ ان کے فیصلے آئینی نہیں‘ سیاسی ہیں‘ انہوں نے کہا کہ مدارس سے متعلق تحریک صرف ایم ایم اے یا اتحاد تنظیمات کا مسئلہ نہیں‘ بلکہ ہر اس کلمہ گو مسلمان کا مسئلہ ہے‘ جو مدارس سے دلچسپی رکھتا ہے۔ قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ پانچ سال سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مدارس سے متعلق حکومت کے جو بھی اشکالات یا اعتراضات ہیں‘ان پر حکومت ہمارے ساتھ مذاکرات کرے اور مسائل حل کئے جائیں‘ مگر حکومت نے ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے پر صرف علمأ کنونشن منعقد کررہے ہیں‘ جبکہ دوسرے مرحلے میں عوامی سطح پر اجتماعات بھی کریں گے اور سڑکوں پر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سبب دینی مدارس کے خلاف حکومت کے منفی اقدامات ہیں‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی طلبہ کے اخراج کا فیصلہ واپس لیا جائے‘ تمام اسناد کو تسلیم کیا جائے۔ شمالی علاقہ جات کے حالات کو سبب بناکر اسکولوں کے نصابِ تعلیم سے طریقہ نماز کو خارج کیا جارہا ہے‘ ہم اسکولوں کے نصابِ تعلیم کا بھی تحفظ کریں گے‘ حکومت کو چاہئے کہ اپنے ان منفی اقدامات سے باز آجائے‘ ہم دینی مدارس کے تحفظ کو اسلام اور پاکستان کا تحفظ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی غیر ملکی طالب علم کو ملک سے جانے کا نہیں کہیں گے‘ غیر ملکی طلبہ کے اخراج کا فیصلہ فردِ واحد کا فیصلہ ہے‘ جو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد عادل خان‘ مولانا عبدالکریم عابد‘ مفتی محمد نعیم‘ قاری محمد عثمان‘ قاری شیر افضل خان‘ علامہ امیر حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔“ (روزنامہ اسلام کراچی‘ ۲۵/ذوالحجہ ۱۴۲۶ھ بمطابق ۲۶/جنوری ۲۰۰۶ء)
یہ کنونشن ہر اعتبار سے بھرپور اور کامیاب تھا‘ جس کے انشاء اللہ دور رس اور بہتر ثمرات و نتائج مرتب ہوں گے‘ تاہم! ہم اربابِ حکومت کی خدمت میں دست بستہ عرض کریں گے کہ دینی مدارس کے تحفظ‘ نصابِ تعلیم‘ دینی مدارس کے غیر ملکی مہمان طلبہ اور دینی مدارس کی اسناد کے مسائل کو خواہ مخواہ انا کا مسئلہ نہ بنائیں‘ خدارا! اپنے مفوضہ امور کو بحسن خوبی انجام دینے اور ملک کو درپیش دوسرے چیلنجوں سے نکالنے کی کوشش کیجئے! دین دشمنی مول لے کر اللہ کے غضب کو دعوت نہ دیجئے! اور اس آ ہنی دیوار سے نہ ٹکرایئے! بلکہ اپنے پیش روؤں کے انجام سے سبق حاصل کیجئے! ”جیو اور جینے دو‘ ‘کے فلسفہ پر عمل کیجئے! اور اپنے دل و دماغ سے یہ خمار نکال دیجئے کہ آپ دین‘ دینی مدارس یا علمأ کو ختم کردیں گے! اس لئے کہ یہ دین اللہ کا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی حفاظت کرنا آتی ہے اور وہ ان کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے جو اس دین کے محافظ ہیں‘ چونکہ یہ دین قیامت تک رہے گا‘ اس لئے انشاء اللہ یہ مدارس اور مدارس کے طلبہ اور علمأ بھی قیامت تک رہیں گے۔ آپ خواہ مخواہ اس پر اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کیجئے‘ اسی میں ملک و قوم اور آپ کا مفاد ہے۔
و اللّٰہ یقول الحق و ھو یہدی السبیل۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۶ ماہنامہ بینات, محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق فروری۲۰۰۶ء, جلد 69, شمارہ