نماز میں آیتِ سجدہ تلاوت کرکے سجدہ کرنا بھول گیا
سوال(۱۲۴۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ :زید نے جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۂ سجدہ تلاوت کی، پہلی رکعت میں پوری سورت پڑھ دی؛ لیکن سجدۂ تلاوت نہیں کیا اور رکوع میں چلا گیا، بعد ازاں پیچھے سے مقتدیوں نے عدم سجودِ تلاوت کا لقمہ دیا، جس سے امام رکوع سے کھڑا ہوگیا، اور دوبارہ آیت سجدہ کی قرأت شروع کردی، اور جب آیت سجدہ آئی تو سجدۂ تلاوت کیا یا نہیں کیا، اب اس میں تین امور ہیں: الف: رکوع فرض سے سجدۂ تلاوت کے لئے کھڑا ہوا اورلوٹا۔ ب: سورت کودوبارہ پڑھا۔ ج: سہو کا سجدہ کیا یا نہیں کیا دونوں صورتوں کا الگ الگ حکم واضح فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں امام کو دوبارہ قیام کرکے سورت پڑھنے کی ضرورت نہ تھی؛ بلکہ جیسے ہی سجدۂ تلاوت یاد آیا تھا، فوراً سجدہ کرکے اپنی ہیئت پر لوٹ آنا چاہئے تھا، اوراخیر میں سجدۂ سہوکرلینا چاہئے تھا۔
عن إبراہیم قال: إذا نسي الرجل سجدۃ من الصلاۃ فلیسجدہا متی ما ذکرہا في صلاتہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۳؍۴۲۸ رقم: ۴۴۳۲ المجلس العلمي)
عن الحسن في رجل نسي سجدۃ من أول صلاتہ فلم یذکرہا حتی کان في آخر رکعۃ من صلاتہ قال: یسجد فیہا ثلاث سجدات۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۳؍۴۲۷ رقم: ۴۴۳۱ المجلس العلمي)
قال الشامي: أما لو سہواً وتذکرہا ولو بعد السلام قبل أن یفعل منافیاً یأتي بہا ویسجد للسہو کما قدمناہ۔ (شامی کراچی ۲؍۱۱۰، شامی زکریا ۲؍۵۸۵)
وقال في الہندیۃ: المصلي إذا نسي سجدۃ التلاوۃ في موضعہا ثم ذکرہا في الرکوع أوفي السجود أو في القعود فإنہ یخر لہ ساجداً ثم یعود إلی ما کان