اگر مقتدی نے امام کے ساتھ رکوع میں سجدۂ تلاوت کی نیت نہ کی تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
سوال(۱۲۵۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: امام نے آیتِ سجدہ پڑھ کر نماز کا رکوع کیا اور رکوع ہی میں سجدۂ تلاوت کی نیت کرلی، اب مقتدیوں میں تین طرح کے لوگ تھے :
(۱) وہ لوگ جنہیں یہ معلوم تھا کہ امام نے آیتِ سجدہ پڑھی ہے اور انہوں نے بھی رکوع کے ساتھ سجدہ کی نیت کرلی۔
(۲) کچھ لوگ وہ تھے جنہیں یہ تو معلوم تھا کہ امام نے آیتِ سجدہ پڑھی ہے؛ لیکن انہوں نے رکوع کے ساتھ سجدہ کی نیت نہیں کی۔
(۳) اور کچھ حضرات ایسے تھے جنہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ امام نے آیتِ سجدہ پڑھی، جس کی بنا پر انہوں نے سجدۂ تلاوت کی نیت ہی نہیں کی۔
تو سوال یہ ہے کہ مسئولہ تینوں صورتوں میں مقتدیوں کی نماز ہوئی یا نہیں؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق: (۱) پہلی صورت میں جن مقتدیوں نے امام کے ساتھ رکوع میں سجدۂ تلاوت کی نیت کرلی ہے، ان کی نماز بلاشبہ درست ہوگئی۔
فإذا رکع إمامہ فوراً یلزمہ أن ینویہا فیہ احتیاطاً لاحتمال أن الإمام نواہا فیہ۔ (شامی ۲؍۵۸۸زکریا )
(۲) دوسری صورت میں جن لوگوں نے آیتِ سجدہ کا علم ہونے کے باوجود امام کے ساتھ رکوع میں سجدۂ تلاوت کی نیت نہیں کی ہے، ان کے لئے احوط یہ ہے کہ وہ امام کے سلام پھیرنے سے پہلے الگ سے سجدۂ تلاوت ادا کرلیں؛ لیکن اگر انہوں نے سجدۂ تلاوت ادا نہیں کیا تو ان کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں اگرچہ بعض جزئیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مقتدیوں کی نماز فاسد ہوجائے گی۔