اوراپنی بیوی بچوں اوراثاثہ کے ساتھ دوسرے شہر میں رہنے لگا، اور اپنا کاروبار تجارت وغیرہ کرنے لگا؛ لیکن پہلے وطن کو باقی رکھا، اور پہلے والے وطن اصلی میں والدین اور دیگر بھائی بہن وغیرہ موجود ہیں، اب وہ مذکورہ شخص کسی ضرورت یا ملاقات والدین کی نیت سے دوچار روز کے لئے اپنے پہلے والے وطن آتا ہے، تو وہ آبائی وطن میں مقیم ہوجائے گا یا مسافر رہے گا؟ سفر کی نماز پڑھے گا یا حضر کی؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر شخص مذکور نے آبائی وطن کو بالکلیہ ترک نہیں کیا ہے جیساکہ سوال نامہ سے واضح ہے، تو ایسی صورت میں اس شخص کے حق میں دونوں مقام وطن اصلی ہوںگے؛ کیوںکہ وطن اصلی متعدد ہوسکتے ہیں؛ لہٰذا یہ شخص آبائی وطن میں بھی آکر نماز پوری پڑھے گا، قصر جائز نہ ہوگا۔ (مستفاد: فتاویٰ دارالعلوم ۴؍۴۶۶)
عن عثمان قال… إني سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: من تأہل في بلد فلیصل صلاۃ المقیم۔ (مسند أحمد ۱؍۶۲ رقم: ۴۴۳)
والوطن الأصلی ہو موطن ولادتہ أو تأہلہ أو توطنہ یبطل بمثلہ إذا لم یبق لہ بالأول أہل فلو بقی لم یبطل بل یتم فیہما (درمختار) ولو کان لہ أہل ببلدتین فأیتہما دخلہا صار مقیما۔ (شامی ۲؍۶۱۴زکریا ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدر ۱؍۳۳۶، البحر الرائق ۲؍۱۳۶، تاتارخانیہ ۲؍۴۹۹)
لأنہ لو لم ینتقل بہم ولکنہ استحدث أہلاً في بلدۃ اخریٰ، فإن الأول لم یبطل ویتم فیہما۔ (البحر الرائق ۲؍۱۳۶)
ولو انتقل بأہلہ ومتاعہ إلی بلد وبقی لہ دور و عقار فی الأول، قیل بقی الأول وطناً لہ، وإلیہ أشار محمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فی الکتاب۔ (عالمگیری ۱؍۱۴۲)
الوطن الأصلی یجوز أن یکون واحداً أو أکثر من ذٰلک۔ ( بدائع زکریا ۱؍۲۸۰)
ویبطل الوطن الأصلی بالوطن الأصلی - إلی قولہ - ولا یبطل الوطن الأصلی بإنشاء السفر وبوطن الإقامۃ۔ (عالمگیری ۱؍۱۴۲، بدائع الصنائع ۱؍۲۸۰زکریا ،