البحر الرائق ۲؍۲۳۹زکریا ، تاتارخانیۃ ۲؍۵۱۱ رقم: ۳۱۴۷زکریا ، حلبی کبیر ۵۴۴، مجمع الانہر ۱؍۱۶۴، ہدایہ ۱؍۱۶۷) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری ۳۰؍۱؍۱۴۲۲ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
مرادآباد چھوڑ کر ماں باپ کے ساتھ لکھنؤ رہنے والے کا
مرادآباد میں نماز کا حکم؟

سوال(۱۲۸۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کا آبائی وطن مرادآباد ہے جہاں اس کے مکانات زمین وجائیداد وغیرہ سب کچھ ہے؛ لیکن اس کے بعد وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ لکھنؤ میں گھر بنا کر رہنے لگا، اب جب کہ دہلی کا سفر کرتا ہے معیشت کے سلسلہ میں یا وہیں رہنے لگا، مگر یہ عارضی طور پر تو جب لکھنؤ اپنے گھر میں آتا ہے اور مدت سفر سے پہلے آبائی وطن مرادآباد کا سفر کرتا ہے مرادآباد میں مدت سفر سے پہلے کسی اور جگہ کا سفر کرتا ہے، تو کیا زید لکھنؤ اور مرادآباد میں نماز میں قصر کرے گا، یا صرف مرادآباد میں قصر کرے گا؟
باسمہ سبحانہ وتعالی
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اگر آپ کا ارادہ ماں باپ کے ساتھ لکھنؤ میں مستقل رہنے کا ہے، اور لکھنؤ کا قیام چھوڑنے کا قصد نہیں ہے، تو جس طرح آبائی وطن مرادآباد وطن اصلی ہے، اسی طرح لکھنؤ بھی وطن اصلی کے حکم میں ہوگا، اور دونوں جگہ پر آپ کو پوری نمازیں پڑھنی ہوں گی۔
ثم الوطن الأصلي یجوز أن یکون واحداً، أو أکثر من ذلک بأن کان لہ أہل ودار في بلدتین أو أکثر ولم یکن من نیتہ أہل الخروج منہا۔ (بدائع الصنائع ۱؍۲۸۰ زکریا)
ویبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلی إذا انتقل عن الأول بأہلہ، وأما إذا