سامع بھی حافظ قرآن عورت ہی ہو تو کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:عورت کی امامت کو فقہاء نے مکروہ تحریمی قرار دیا ہے، خواہ تراویح ہو یا کوئی اور نمازِ فرض، یا نفل؛ البتہ اگر حافظہ عورت اپنا قرآن یاد رکھنے کی غرض سے تراویح میں عورتوں کی امامت کرے تو بعض آثار سے اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اس صورت میں وہ درمیان صف میں کھڑی ہوگی، مردوں کی طرح صف سے آگے نہ بڑھے گی۔
عن عائشۃ أم المؤمنین رضي اللّٰہ عنہا أنہا کانت تؤم النساء في شہر رمضان فتقوم وسطاً، قال محمدؒ: لا یعجبنا أن تؤم المرأۃ فإن فعلت قامت في وسط الصف مع النساء کما فعلت عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا وہو قول أبي حنیفۃؒ۔ (کتاب الآثار للامام محمدؒ ۱؍۲۰۳-۲۰۶، رمضان کے شرعی احکام: مصطفی عبد القدوس ندوی ۲۷۴، کتاب المسائل ۱؍۵۲۱)
ویکرہ تحریماً جماعۃ النساء، ولو في التراویح في غیر صلاۃ جنازۃ۔ (درمختار مع الشامي ۱؍۵۶۵ کراچی، ۲؍۳۰۵ زکریا، ۲؍۲۶۲ بیروت، ہدایۃ ۱؍۱۲۳، فتاویٰ رحیمیہ ۹؍۷۶، کتاب المسائل ۱؍۴۱۵) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲؍۹؍۱۴۱۷ھ
حافظ بچی کا گھر کی عورتوں کا تراویح میں امام بننا اور تہجد کی جماعت کرنا؟
سوال(۹۹۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میری بچی حافظہ ہے، وہ اپنے حفظ قرآنِ کریم کو باقی رکھنے کے لئے تراویح میں قرآن سنانا چاہتی ہے؛ لیکن آپ لوگوں سے مسئلہ دریافت کرنے کا خیال نہیں رہا، اس وجہ سے امسال نہ