مغربی دنیا کی دریدہ دہنی توھین آمیز خاکے
مغربی دنیا کی دریدہ دہنی توھین آمیز خاکے


الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
یہود و نصاریٰ اور اربابِ کفر و شرک‘ روز اوّل سے آقائے دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن چلے آرہے ہیں‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض و عداوت اور آپ کی شان میں گستاخی و ہرزہ سرائی ان کی گھٹی‘ فطرت اور خمیر میں شامل ہے‘ جس طرح بچھو کے لئے ڈنک مارنے کی عادت چھوڑنا ‘ناممکن ہے‘ ٹھیک اسی طرح ان ملعونوں کا گستاخی سے باز آنا بھی ناممکن ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا‘ ورنہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح انسانیت کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے کاٹ دیں؟ چنانچہ انہوں نے چودہ سو سال پہلے ہی یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ نعوذباللہ! آپ بے نام و نشان ہوجائیں‘ مگر اللہ تعالیٰ نے طے فرمارکھا ہے کہ: ”ان شانئک ھوالابتر“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں‘ بلکہ آپ کے دشمن ہی بے نام و نشان ہوں گے۔ صرف یہی نہیں‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما رکھا ہے کہ : ”ورفعنا لک ذکرک“ ہم آپ کے نام اور مقام کو بلند سے بلند تر کریں گے۔ یوں تو دشمنانِ اسلام اور یہود و نصاریٰ کی انبیاء دشمنی‘ ان کی توہین و تنقیص کی تاریخ بہت طویل اور تکلیف دہ ہے‘ مگر گزشتہ چند مہینوں سے ان بدباطنوں نے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جس بے شرمی و ڈھٹائی کے ساتھ توہین‘ تنقیص اور گستاخی کا مظاہرہ کیا ہے‘ بلاشبہ وہ ان کی تاریخ کا سیاہ کارنامہ ہے۔ اس سے جہاں مغرب کا مکروہ اور سیاہ چہرہ بے نقاب ہوکر سامنے آگیا ہے‘ وہاں مسلمانوں کو بنیاد پرست‘ تنگ نظر اور مذہبی جنونی کہنے والوں کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ:
ڈنمارک کے اخبار ”جے لینڈ پوسٹن“ (Jylland Posten) کے ایڈیٹر جان ہینسن کے ایک بدبخت اور دریدہ دہن دوست نے نعوذباللہ! آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر ایک گستاخانہ کتاب لکھی‘ جسے مزید بدبودار بنانے کے لئے اس نے طے کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز تصویری خاکے اور کارٹون بھی اس میں شامل کرے‘ جب اس نے اس مقصد کے لئے مختلف آرٹسٹوں سے رابطہ کیا تو تمام آرٹسٹوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اگر انہوں نے یہ حرکت کی تو مسلمان انہیں توہین رسالت کا مرتکب قرار دے کر قتل کردیں گے‘ چنانچہ انہوں نے ہالینڈ کے اس قضیہ کا حوالہ دیا کہ ایک فلم ساز نے فلم میں کسی برہنہ اور عریاں عورت کے جسم پر قرآنی آیت لکھ دی تو ایک مسلمان نے اس گستاخ فلم ساز کو قتل کردیا تھا۔ جب اس مسلمان نوجوان پر مقدمہ چلا تو اس نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ: تم مجھے پھانسی دے دو‘ اس لئے کہ اگر میں زندہ رہا تو میرے سامنے جو بھی اسلام‘ قرآن اور پیغمبر اسلام کی گستاخی کرے گا‘ میں اسے بھی قتل کردوں گا۔ ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا کہ اس مسلمان نوجوان کا بیان مسلمانوں کی ایمانی غیرت‘ اپنے دین و مذہب اور شعائر ِ اسلام سے والہانہ وابستگی اور شیفتگی کی نشاندہی کرتا ہے‘ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنے دین و مذہب‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم‘ صحابہ کرام  اور مقدس شخصیات کے معاملہ میں کسی سے سمجھوتا نہیں کرسکتے‘ اس لئے ہم یہ خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس بدبخت شاتم رسول مصنف نے جب ”جے لینڈ پوسٹن“ اخبار کے ایڈیٹر کو اس صورت حال سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہمارے ملک کے تمام آرٹسٹ بزدل ہیں اور مسلمانوں کے پیغمبر کے خاکے بنانے پر تیار نہیں‘ تو ”جے لینڈ پوسٹن“ کے دریدہ دہن ایڈیٹر نے کہا کہ آرٹسٹ خواہ مخواہ ڈر رہے ہیں‘ ورنہ ایسی کوئی بات نہیں‘ کیونکہ ڈنمارک ایک سیکولر و لبرل ملک ہے‘ یہاں آباد تمام مسلمان ہمارے کلچر میں رنگ چکے ہیں اور ان میں وہ تمام بری عادات و اطوار موجود ہیں‘ جو ہمارے اندر پائی جاتی ہیں‘ چنانچہ اس ملعون ایڈیٹر نے اپنے اخبار کے آرٹسٹ کو بلوایا‘ اسے ایک عندیہ دے کر خاکے بنانے کا حکم دیا‘ یوں اس شاتم رسول آرٹسٹ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص پر مشتمل متعدد خاکے اور کارٹون بناکر ایڈیٹر کے حوالے کئے‘ جن میں بارہ خاکوں کو اشاعت کے لئے منتخب کیا گیا‘ ان میں سے ایک خاکہ ایسا تھا جس میں سے آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ بنائی گئی اور اس خاکے کے سر پر پگڑی بناکر اس میں بم رکھا ہوا دکھایا گیا‘ گویا نعوذباللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دہشت گرد تھے۔
یہ خاکے پہلی مرتبہ ۳۰/ستمبر کو شائع ہوئے۔ ابتدائی طور پر جب ڈنمارک کے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا تو اس کو خاطر میں نہیں لایا گیا‘ اس کے بعد مسلمانوں نے نہایت سلیقہ سے اس احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا عزم کیا‘ ان خاکوں کی اشاعت‘ ان پر احتجاج‘ اور مغرب کی ڈھٹائی کی تفصیلات روزنامہ جنگ کراچی کے حوالہ سے کچھ یوں ہیں:
”جے لینڈ پوسٹن“ ( Jylland Posten) ڈنمارک کا ایک محدود تعداد میں چھپنے والا مقامی اخبار ہے‘ جان ہینسن اس کے ایڈیٹر ہیں‘ اپنے اخبار کی معمولی شہرت کے لئے ایڈیٹر نے ۳۰/ستمبر کو نازیبا کارٹون چھاپے‘ جن کی تعداد ۱۲ تھی۔ اخبار ڈینش زبان میں چھپتا ہے‘ اس لئے ڈنمارک میں رہائش پذیر بہت سے مسلمان اس کو نہیں پڑھتے۔ ۳۰/ستمبر کو جب یہ نازیبا کارٹون چھپے تو چند مسلمانوں نے انہیں دیکھا اور پھر ایک دوسرے سے ایک میٹنگ میں مشورہ کیا۔ ڈنمارک میں مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ ۲ لاکھ ہے‘ جن کا تعلق مختلف مسلم ممالک سے ہے‘ اکثریت مشرقِ وسطیٰ سے ہے‘ وہاں متحرک مسلمان تنظیم نے فیصلہ کیا کہ ان نازیبا کارٹون کی اشاعت پر ایک پُرامن احتجاج کرنا چاہئے اور اخبار کے ایڈیٹر کو احساس دلانا چاہئے کہ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے‘ لہٰذا وہ معافی مانگے۔ ۱۴/اکتوبر ۲۰۰۵ء کو کوپن ہیگن میں ایک انتہائی منظم اور پُرامن ریلی منعقد کی گئی‘ جس میں تقریباً چار ہزار افراد نے شرکت کی۔ ریلی میں اخبار کے مدیر سے معافی طلب کی گئی‘ لیکن اس نے صاف انکار کردیا کہ کوئی معافی نہیں مانگی جائے گی‘ یہ ہماری آزادی کا مسئلہ ہے‘ دل آزاری ہو تو ہوا کرے۔
ڈنمارک کے مسلمان کافی پریشان ہوئے‘ پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ ڈنمارک کے وزیر اعظم جناب آندرے رمسان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جائے تاکہ ایسی شرمناک حرکت کو آئندہ ہونے سے روکا جائے اور ایڈیٹر کو حکومت احساس دلائے کہ وہ نازیبا حرکت پر معافی مانگے۔ ڈنمارک میں مقیم مسلمانوں نے اس سلسلے میں اپنے اپنے ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ وہ ان کے جذبات کو ڈنمارک کے وزیر اعظم تک پہنچادیں تاکہ آئندہ کا تدارک بھی ہوجائے اور موجودہ حرکت کی تلافی بھی۔ اسلامی ممالک کے ۱۱ سفیروں نے مشترکہ درخواست بھیجی تاکہ وزیر اعظم سے ملاقات ہوسکے اور ان کی توجہ اس خطرناک حرکت کی طرف دلائی جائے اور معاملے کو خوش اسلوبی اور مہذب طریقے سے حل کرالیا جائے۔ وزیر اعظم نے مسلم سفیروں سے ملنے سے صاف انکار کردیا۔ کمال ہے! ایسا حساس معاملہ اور مودبانہ ملاقات کی گزارش؟ مگر ڈنمارک کے وزیر اعظم صاحب نے تمام سفارتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے صاف انکار کرکے ڈنمارک کے رہائش پذیر مسلمانوں کی مزید دل آزاری کی اور ان کو ایک دور اہے پر کھڑا کردیا کہ اب کس کے پاس جائیں‘ جو ہماری بات سنے؟ یہی وہ وقت تھا جب وزیر اعظم ڈنمارک یا اس سے پہلے اخبار کے ایڈیٹر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے دفن کرسکتے تھے‘ لیکن انہوں نے ایسا مناسب نہیں سمجھا‘ بلکہ ڈنمارک کے مسلمانوں کو حیرت زدہ اور اس کے ساتھ ساتھ برہم کردیا۔
ڈنمارک کے مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ مسئلہ اب دوسرے مسلمان بھائیوں کے علم میں لانا چاہئے تاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جو گستاخی کی گئی ہے‘ وہ دوبارہ نہ ہو۔ مسلم رہنما ابولبن نے کارٹونوں پر مشتمل ایک تفصیل بناکر چار وفد: مصر‘ لبنان‘ شام اور سعودی عرب روانہ کئے۔اب نومبر کا مہینہ شروع ہوچکا تھا ‘بس پھر یہ آگ بھڑک کر پھیلنا شروع ہوگئی۔ ۵۷ مسلم ممالک نے مکہ سے ایک مشترکہ بیان میں سخت الفاظ میں اس حرکت کی مذمت کی۔ امام کعبہ نے مکہ شریف سے اعلان کیا کہ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کی شان میں تضحیک کرے‘ وہ قابل گرفت اور سزا کا حقدار ہے۔ سعودی حکومت نے ڈنمارک سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے اور اپنا سفیر واپس طلب کرلیا۔ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کردیا۔ مسلمانوں کی مزید دل آزاری اور ہتک آمیز رویہ رکھتے ہوئے فرانس‘ اسپین‘ ناروے اور جرمنی کے اخبارات نے ڈنمارک کی حمایت میں دوبارہ کارٹون کی اشاعت کی اور کہا کہ یہ سب کچھ پریس کی آزادی کے لئے کیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کون سی آزادی ہے کہ آپ کسی کو اذیت پہنچانے کا حق مانگتے ہیں؟ یہ آزادی نہیں‘ بلکہ معاشرتی اور مذہبی خلیج اور نفرت کا اظہار ہے تاکہ مسلمان جو پہلے ہی زخمی ہیں‘ ان کی مزید تذلیل کی جائے۔
تین ماہ بعد وزیر اعظم ڈنمارک کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے ڈنمارک میں مقیم تمام سفیروں کو طلب کرکے اپنا نقطہ نظر بیان کیا‘ لیکن مسلم سفیروں نے کہا کہ معاملہ اب حکومتی ذرائع سے دور نکل گیا اور عوام میں جاچکا ہے۔ اگر واقعات کی یہ ترتیب دیکھ لی جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنا ردِعمل انتہائی شائستہ اور مہذب انداز میں اور سفارتی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کیا‘ اور مسئلہ کا منصفانہ اور باعزت حل چاہا‘ لیکن ان کو دھتکار دیا گیا اور ان کے جذبات جان بوجھ کر بھڑکائے گئے‘ اور اب بھی مختلف بیانات کے ذریعے ایسا کیا جارہا ہے۔ یہ ایک فطری ردِ عمل تھا اور ہے‘ ۱یسی مذموم حرکت سے (اسلام دشمنوں کے علاوہ… ناقل) کسی کو کوئی فائدہ نہیں‘ پھر بھی یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کمیشن اس کی حمایت کررہے ہیں‘ آزادی اظہار کی بات کرتے ہیں‘ حالانکہ جرمنی میں ہٹلر سے ملتا جلتا اشتہار چھاپنے پر‘ جس سے اس کی تعریف جھلکتی ہو‘ سات سال قید ہے۔ واہ! ہٹلر سے ملتی جلتی تصویر چھاپنا تو قانوناً جرم ہے‘ لیکن مسلمانوں کی دل آزاری‘ اور ان کے نبی کی توہین آزادی صحافت ہے‘ یہ ہیں مہذب‘ تعلیم یافتہ یورپ کی اقدار!“ (روزنامہ جنگ کراچی: ۱۸/ فروری ۲۰۰۶ء)
جیسا کہ آپ نے دیکھا‘ یہ گستاخی جے لینڈ پوسٹن‘ اس کے ایڈیٹر اور آرٹسٹ تک محدود نہیں رہی۔ اگر بالفرض یہ خاکے لاعلمی میں شائع ہوئے تھے‘ یا آزادی اظہار کی غلط فہمی کی وجہ سے ایسا ہوا تھا‘ تو جب یہ معلوم ہوگیا کہ ان کی اشاعت سے ۵۷ اسلامی ممالک اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے‘ تو نہ صرف یہ کہ ان کی اشاعت روک دی جاتی‘ بلکہ ان کی اشاعت پر ایڈیٹر اور آرٹسٹ کو مسلمانوں سے معافی مانگنا چاہئے تھا‘ بلکہ ڈنمارک حکومت کا فرض تھا کہ وہ اس بدباطن آرٹسٹ‘ ایڈیٹر اور اخبار کے خلاف تادیبی کارروائی کرتی‘ مگر افسوس کہ اس کے برعکس اس نے ان کی پشت پناہی شروع کردی‘ صرف یہی نہیں بلکہ دوسرے یورپی ممالک نے بھی اس بے حیائی و بے شرمی میں ان کا ساتھ دیا۔ چنانچہ ۱۰/جنوری کو یہ خاکے ناروے کے ایک جریدے ”کرسٹین میگزین“ نے شائع کئے۔ اسی طرح ناروے کے ایک بڑے اخبار ”راگ بلاوت“ نے بھی انہیں انٹرنیٹ پر جاری کیا اور ۱۲/جنوری کو اخبار میگزنیٹ (MAGAZINAT) نے انہیں دوبارہ شائع کرنے کی ناپاک جسارت کی‘ اس کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے اخبارات نے بھی ان دل آزار خاکوں کو شائع کیا‘ جبکہ یکم فروری ۲۰۰۶ء کو فرانسیسی میگزین ”چارلی بیب دو“ اور روزنامہ ”سائر فرانس“ نے بھی انہیں شائع کرکے ان گستاخوں کا ساتھ دیا‘ اسی طرح ۸/فروری کو ان جریدوں نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کرکے مسلمانوں کے دل زخمی کئے اور ۸/فروری کو ہی امریکا کے ”فلاڈیلفیا انکوائر“ اور ”نیویارک سن“ نے بھی ان دل آزار خاکوں کو شائع کرکے اپنی بدبختی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا‘ ۹/فروری کو یہ خاکے یمن کے ایک اخبار نے اور ۱۰/فروری کو روسی میوزیم کے ڈائریکٹر نے ان خاکوں کی باقاعدہ اشاعت کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ بی بی سی لندن‘ سی این این‘ اے بی سی‘ واشنگٹن پوسٹ‘ نیویارک ٹائمز بھی اس دریدہ دہنی میں کسی سے پیچھے نہیں رہے‘ بلکہ اخباری اطلاعات کے مطابق اب امریکا میں اس کے لئے باقاعدہ ایک ویب سائٹ بنالی گئی ہے‘ جس پر دنیا جہاں کے شقی ازلی‘ توہین رسالت اور عداوتِ اسلام پر مبنی خاکے بھیج اور دیکھ سکتے ہیں۔
ان بدباطنوں نے جس بے شرمی‘ ڈھٹائی اور شرمناک انداز سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص اور گستاخی کا ارتکاب کیا ہے‘ اس سے مسلمانوں کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے‘ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام اس پر سراپا احتجاج ہے۔ بلاشبہ ان بدباطنوں نے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کارٹون اور توہین آمیز خاکے بنانے اور شائع کرنے کے بعد گویا انہوں نے کھلا اعلان جنگ کردیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس جنگ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا کس حد تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں؟ اور دشمنان رسول سے کس حد تک اپنی نفرت و بیزاری کا ثبوت دیتے ہیں؟
جہاں تک اب تک کی صورتحال کا تعلق ہے‘ تو بحمداللہ! دنیا بھر کے تمام مسلمانوں نے دنیائے کفر پر تھوکنے‘ ان کے اس متعصبانہ اور قابل گردن زدنی کردار سے بھرپور نفرت کا اظہار کیا ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اب سمجھ چکے ہیں کہ دنیائے کفر‘ ان کو کس غار میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ غالباً یہود و نصاریٰ اور ان کے سرپرستوں کو اس کا اندازہ نہیں ہے کہ مسلمان خواہ کیسا ہی بے عمل یا بدعمل کیوں نہ ہو‘ مگر اس کو اپنے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ والہانہ تعلق اور غیر معمولی محبت و عقیدت ہے‘ اور وہ اس محبت و عقیدت کے تعلق پر کسی سودے بازی کا روادار نہیں۔ دنیائے کفر کا خیال تھا کہ ہم نے مسلمانوں کو عیسائی و بے دین بنانے کے لئے این جی اوز کا جال بچھایا‘ بودو باش اور لباس و پوشاک کے اعتبار سے بالفعل مسلمانوں کو غیرمسلم بنایا‘ مسلمانوں کے مقابلہ میں امریکی بغل بچہ یہودی اسرائیل کی سرپرستی کی‘ فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا‘ ان کی نسل کشی کی‘ بیروت و لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجائی‘ کوسوو اور چیچنیا کے مسلمانوں کو تہہ خاک کیا‘ افغانستان و عراق پر چڑھائی کی‘ وہاں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا‘ مسلمانوں کی عزتیں اور عصمتیں پامال کیں‘پچاس سال سے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا‘ سعودی عرب کی معیشت پر ڈاکا ڈالا‘ غرضیکہ جہاں جو چاہا کیا‘ مگر اس کے آگے کسی نے چوں نہیں کی‘ تو آئندہ بھی ہماری راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا۔ جب اس نے یہ مراحل بآسانی طے کرلئے‘ مسلمانوں کی معیشت اور ان کے وسائل پر قبضہ جمالیا‘ تو اس کا اگلا ہدف اور نشانہ مسلمانوں کادین و مذہب تھا۔ چنانچہ اس نے اب مسلمانوں کی محبوب از دل و جان ہستی‘ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر براہ راست حملہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا‘ اس کا خیال تھا کہ مسلمان اس کو بھی اسی طرح باآسانی ہضم کرلیں گے‘ جس طرح انہوں نے اب تک اپنے خلاف کئے جانے والے تمام ناپاک اقدامات کو برداشت کرلیا ہے‘ لیکن موجودہ عالمی احتجاج کی صورت حال سے دنیائے کفر کو اندازہ ہوجانا چاہئے کہ مسلمان چاہے کتنا ہی گناہوں کی دلدل میں دھنسا ہوا کیوں نہ ہو‘ مگر وہ ذات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنیٰ سے ادنیٰ گستاخی اور توہین و تنقیص برداشت نہیں کرسکتا‘ بلکہ گستاخان نبی کے بارہ میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ:
۱:… ”ملعونین این ماثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلاً“ (الاحزاب:۶۱)
ترجمہ: ایسے ملعون جہاں بھی پائے جائیں ان کو پکڑا جائے‘ اور ان کو پرزے پرزے کردیا جائے۔
۲:… ”ان شانئک ہوالابتر۔“ (الکوثر:۳)
ترجمہ: ”بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگانے والوں کی جڑکاٹ دی جائے گی۔“
۳:… ”ان الذین یوذون اللّٰہ ورسولہ‘ لعنہم اللّٰہ فی الدنیا والآخرة واعدلہم عذابا مہیناً“ (الاحزاب:۵۷)
ترجمہ: ”اور جولوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتے ہیں‘ ان کے لئے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کیا گیا ہے۔“
صرف یہی نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ اور علمائے امت کا اجماع و اتفاق ہے کہ:
”سیّد دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں صراحتاً‘ کنایتاً گستاخی کرنے والا کافر ہے‘ اگر توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے‘ اور اگر کوئی غیر مسلم اس گستاخی کا ارتکاب کرے تو مباح الدم ہے۔“ (الصارم المسلول‘ ابن تیمیہ)
اس لئے کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ گار سے گناہ گار نام لیوا‘ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی نبی کی توہین و تخفیف قطعاً برداشت نہیں کرسکتا۔
موجودہ صورت حال میں ایک طرف اگر پوری دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان سراپا احتجاج ہیں تو دوسری طرف دنیائے کفر‘ ان بدقماش شاتمین اور توہین رسالت کے مرتکبین کی پشت پناہی اور تحفظ پر کمربستہ ہے‘ بلکہ ان کی ہم نوائی میں اس حد تک ہرزہ سرا ہے کہ نعوذباللہ: ”ہمیں خدا کے کارٹون بنانے کا بھی حق حاصل ہے۔“
(روزنامہ ”خبریں“ کراچی‘ ۲/فروری ۲۰۰۶ء)
آزادی اظہار رائے کے دعویدار‘ ان شاتموں سے کوئی پوچھے کہ: تمہیں مسلمانوں کی توہین و تنقیص‘ ان کے دین و مذہب اوران کے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے وقت تو آزادی اظہار رائے کا شدت سے احساس و خیال آتا ہے‘ لیکن سوال یہ ہے کہ تمہارا یہ احساس‘ خیال اور جنون تمہیں ”ہولو کاسٹ“ کے قانون کے خلاف زبان کھولنے اور لکھنے کی جرأت کیوں نہیں دیتا‘ وہاں تمہارے آزادی اظہار رائے کے جذبہ کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟
”ہولو کاسٹ“ کا مفہوم اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ یہودیوں نے پراپیگنڈا کیاتھا کہ: جرمنی میں ہمارا قتل عام کیا گیا اور ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا‘ لہٰذا ہمیں الگ ملک دیا جائے‘ ان کے اس پراپیگنڈا کی وجہ سے ان کو اسرائیلی ریاست دے دی گئی‘ مگر جب تحقیق ہوئی تو ان کا دعویٰ جھوٹا نکلا‘ تب انہوں نے قانون بنوادیا کہ یہودیوں کے اس دعویٰ کو چیلنج نہیں کیا جاسکے گا‘ لہٰذا ”ہولو کاسٹ“ کے اس قانون کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اس یہودی دعویٰ کے خلاف بولے اور لکھے گا وہ قابل گردن زدنی ہوگا‘ لہٰذا اس کے بعد سے آج تک کوئی ”حق گو“اس کے خلاف بول اور لکھ نہیں سکتا حتی کہ اس پر تحقیق بھی نہیں کرسکتا‘ اب سوال یہ ہے کہ اس ہولو کاسٹ کے قانون کے خلاف کسی کو آزادی اظہار رائے کا خیال کیوں نہیں آتا۔
بلاشبہ ڈنمارک‘ اٹلی‘ جرمنی‘ فرانس اور ناروے اس شیطنت میں سب سے بڑھ کر ہیں‘ جبکہ امریکا بھی اس سلسلہ میں دلی اور اندرونی طور پر ان کا ہم نوا ہے‘ مگر اس کا کردار خالص منافقانہ ہے‘ یہی وجہ ہے کبھی کبھی تو : ” قد بدت البغضاء من افواہھم وما تخفی صدورہم اکبر“ کے مصداق وہ بھی اپنے خبث باطن کو اگلنے پر مجبور ہوجاتا ہے‘ تاہم آسمان پر تھوکنے سے آسمان کا کچھ نہیں بگڑتا‘ مگر تھوکنے والے کا منہ ضرور خراب ہوجاتا ہے۔
دراصل امریکا اس صورت حال سے دوہرا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے‘ ایک طرف وہ اپنے مقابلہ میں آنے والی یورپی یونین کو کمزور کرنا اور اس کی ساکھ کو بین الاقوامی طور پر متہم کرنا چاہتا ہے‘ دوسری طرف وہ مسلمانوں کے اعصاب کو کمزور کرکے ان پر دنیائے کفر کا رعب بٹھانا چاہتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کو اپنے آپ سے دور بھی نہیں کرنا چاہتا ‘ اس لئے کبھی کبھی مسلمانوں سے ہم نوائی کے ایک آدھے بیان سے وہ ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم دنیائے مغرب اور امریکا کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ مسلمان اپنے نبی کی عزت و عظمت اور حرمت و ناموس پر سب کچھ قربان تو کرسکتا ہے مگر اس پر آنچ نہیں آنے دے گا۔
مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے آج تک دین‘ مذہب‘ اسلام‘ شعائر ِ اسلام اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا تحفظ کیا ہے‘ اور جس بدبخت نے کبھی کوئی ایسی حرکت کرنے کی ناپاک کوشش کی‘ اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا۔ چنانچہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب سے لے کر یوسف کذاب تک تمام مدعیانِ نبوت‘ مسیحیت‘ مہدویت کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں نے ایسے گستاخوں کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین کو پاک کردیا۔ آج اگر راج پال کے جانشین موجود ہیں تو بحمداللہ! غازی علم الدین شہید اور حاجی مانک کے نام لیوا بھی موجود ہیں‘ اس لئے مغرب اور اس کے سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اس ناپاک رَوِش سے باز آجائیں‘ ورنہ دنیا کا امن تہہ و بالا ہوسکتا ہے‘ اگر مسلمانوں کی مقدس ہستیاں خصوصاً حضرات انبیاء کرام کی عزت و ناموس محفوظ نہ رہی تو دنیا کی کوئی شخصیت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔
اس موقع پر مسلمانوں نے جس ملی غیرت‘ حمیت اور اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا اور اس مذہبی دہشت گردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے‘ وہ لائقِ صد تبریک اور قابلِ صد مبارک باد ہے‘ خصوصاً سعودی عرب‘ مصر اور لیبیا اس سلسلہ میں سب سے سبقت لے گئے‘ سیاسی و مذہبی راہ نماؤں‘ وکلاء‘ ججوں‘ صحافیوں اور اخبارات‘ اسکول و کالج کے اساتذہ و طلبہ‘ بچوں‘ بڑوں‘ خواتین‘ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین‘ خصوصاً تاجر برادری‘ اسی طرح پاکستان بھر کے تمام غیور مسلمانوں نے جس طرح بیدار مغزی‘ ہمت و جرأت اور حمیت و غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اس گھناؤنے جرم کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے‘ اس کی جتنا بھی تعریف کی جائے‘ کم ہے۔
اس تکلیف دہ اور اعصاب شکن صورت حال کا حیران کن‘ امید افزا اور روشن پہلو یہ ہے کہ: گیارہ ستمبر کے سوچے سمجھے منصوبے اور ڈرامے کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا گیا تھا‘ انہیں تشدد پسند‘ دہشت گرد‘ مذہبی جنونی اور بنیاد پرست باور کرایا گیا‘ ان کو طعن و تشنیع اور استخفاف و تضحیک کا نشانہ بنایا گیا‘ بنیاد پرستی کو دہشت گردی کی جڑ اور مسلمانوں کو اس کا منبع قرار دیا گیا‘ الغرض مسلمانوں کو اس ڈرامے کی آڑ میں اس قدر بدنام کیا گیا کہ دنیائے کفر کے ساتھ ساتھ سیدھے سادے مسلمان بھی اس پراپیگنڈا سے متاثر ہوئے اور وہ بھی مسلمانوں کو دہشت گرد‘ بنیاد پرست اور مذہبی جنونی سمجھنے لگے۔ یوں دنیا بھر میں مسلمانوں پر عرصہٴ حیات تنگ کردیا گیا‘ انہیں ہر سزا کا مستحق گردانا گیا‘ ان کو پابند سلاسل کیا گیا‘ گوانتاناموبے اور بدنام زمانہ ابو غریب جیل میں ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے‘ غرضیکہ ”مسلمان“ کو گالی کا درجہ دے دیا گیا‘ یہ اسی کا ثمرہ ہے کہ مسلمانوں کو نہ صرف مغربی ممالک میں‘ بلکہ ان کو اسلامی ممالک میں بھی امن و اطمینان سے رہنے کے حق سے محروم کردیا گیا‘ اور انہیں اسلامی روایات‘ مذہبی رسومات‘ اسلامی وضع قطع اور لباس و پوشاک اپنانے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
اس صورت حال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ مسلمان دفاعی اعتبار سے اتنے پیچھے چلے گئے کہ آئندہ بیس سال تک وہ اپنی سابقہ پوزیشن بحال نہیں کرسکیں گے‘ اور انہیں اپنے خلاف پھیلائے گئے اس منفی پراپیگنڈا کے گردوغبار کو صاف کرنے میں خاصا وقت لگے گا‘ یہی وجہ تھی کہ مسلمان ۱۱/ستمبر کے ڈرامے کے بعد کچھ کرنے کے بجائے اپنی صفائیاں پیش کرنے اور اپنے دفاع پر مجبور ہوگئے تھے۔ لیکن: ”ہرشر میں خیر ہوتی ہے“ کے مصداق مغرب کی اس گستاخی‘ گندہ د ہنی‘ متعصبانہ رویہ‘ معاندانہ انداز اور ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ:
۱:… پوری دنیا کے مسلمان متحد ہوگئے اور مغرب کا تعصب‘ مذہبی جنون‘ دہشت گردی‘ تشدد پسندی اور تنگ نظری کھل کر سامنے آگئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے اس دریدہ دہنی کے خلاف پرامن احتجاج‘ اس پر مغرب کی ڈھٹائی اور فرعونیت سے بحمدللہ! وہ دفاع سے اقدام کی پوزیشن میں آگئے‘ یوں کل تک کا فرعون امریکا‘ اس کے حواری مغربی ممالک اور یورپی یونین آج اپنے دفاع اور وضاحتوں پر مجبور ہیں۔
۲:… ان حیا سوز کارٹونوں اور توہین آمیز خاکوں کی مسلسل اشاعت‘ اس پر کسی ندامت و شرمندگی کے نہ ہونے‘ اس گستاخی پر معذرت نہ کرنے اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے بھرپور احتجاج کو خاطر میں نہ لانے اور مغربی رویہ نے ثابت کردیا کہ بنیاد پرست مسلمان نہیں‘ بلکہ مغرب‘ بدقماش امریکا اور اس کے حواری ہیں‘ لہٰذا اس صورت حال سے ہر شخص کھلی آنکھوں مشاہدہ کرسکتا ہے کہ بنیاد پرست‘ دہشت گرد‘ دنیا کے امن و امان کو خراب کرنے اور انتہا پسندی کو ہوا دینے کے در پے مسلمان ہیں یا مغربی دنیا؟
۳:… اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ: امریکا بہادر اور مغرب سے متاثر بلکہ ان سے ڈرے سہمے مسلم حکمرانوں میں یہ جرأت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ بھی ان کے خلاف زبان کھولنے لگے ہیں اور دبے لفظوں میں وہ بھی مسلمانوں کی ہم نوائی میں اپنے آقاؤں کی زیادتیوں کا اظہار کرنے لگے ہیں‘ خدا کرے ان کو اب یہ بات سمجھ میں آجائے کہ دہشت گرد مسلمان نہیں مغرب ہے اور مسلمانوں پر چڑھائی کے بجائے ان کے خلاف محاذ بنانے کی ضرورت ہے جو ہماری جان‘ مال‘ عزت‘ آبرو‘ دین‘ مذہب اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے درپے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس وقت تک اپنا پُرامن احتجاج جاری رکھیں جب تک کہ یہ بین الاقوامی دہشت گرد‘ بنیاد پرست اور مذہبی جنونی اپنی اس شرارت سے باز نہ آجائیں‘ اور کھلے عام اس گستاخی کی معافی مانگ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے توہین رسالت کے مرتکبین کے خلاف قانون سازی نہ کرلیں۔
ہمارے خیال میں اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے تمام ممالک سے تجارتی اور سفارتی تعلقات اس وقت تک کے لئے منقطع کرلئے جائیں اور ان کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے‘ جب تک کہ ان کی فرعونی گردنیں سرنگوں نہ ہوجائیں‘ اگر مسلمان اس حکمت عملی کو ہوش مندی اور پُرامن طریقہ سے اپنائے رکھیں گے تو انشاء اللہ! یہ فرعون بہت جلد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی عرض کروں گا کہ ہمارے اربابِ اقتدار کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے‘ بلکہ انہیں اب یہ بات سمجھ میں آجانی چاہئے کہ پاکستان میں نافذ قانون توہینِ رسالت کس قدر مفید ہے؟ اور اس کی کس قدر شدید ضرورت ہے؟ لہٰذا اسے بالکل نہ چھیڑا جائے‘ اگر خدانخواستہ اس قانون کو منسوخ کیا گیا تو کوئی بھی ازلی بدبخت توہین رسالت کا ارتکاب کرکے ملکی امن و امان کو تہہ و بالا کرسکتا ہے۔
جہاں تک امریکا بہادر اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس قانون کی منسوخی کے مطالبہ اور اصرار کا تعلق ہے‘ دیکھا جائے تو اس کے پیچھے بھی یہی ناپاک عزائم کارفرما ہیں کہ اس قانون کی منسوخی کے بعد اپنے کسی آلہ کار کے ذریعہ اس دریدہ د ہنی کا ارتکاب کرکے مسلمانوں کو کرب و ابتلا سے دوچار کیا جائے اور حکومت پاکستان کے لئے مشکلات اور اپنے ناپاک منصوبوں کے لئے سند جواز مہیا کی جائے۔
ارباب اقتدار کو اگر ملک و قوم‘ دین و مذہب اور نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذراسا بھی تعلق ہے تو انہیں اس سازش کا احساس و ادراک کرتے ہوئے اس کو ناکام بنانا چاہئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی دلی وابستگی کا ثبوت دینا چاہئے‘ اگر مسلمان ایسا نہیں کرسکتے تو امام مالک رحمہ اللہ کے بقول انہیں زندہ رہنے کا حق نہیں‘ کیونکہ:
”ما بقاء الامة بعد شتم نیبہا۔“ (احسن البیان فی تحقیق مسئلة الکفر والایمان‘ ص:۶۰)
ترجمہ: ”اس امت کی کیا زندگی اور کیا جینا ہے؟ کہ جس کے نبی پر گالیاں پڑتی ہوں۔“
ایک مسلمان کی حیثیت سے ان گستاخانِ نبوت اور شاتمینِ رسالت کے خلاف ہمارے جذبات اور ہماری کم از کم جدوجہد کیا ہونی چاہئے؟ اس کے لئے خانقاہِ رائے پور کے گل سرسبد‘ امام الاولیاء‘ حضرت اقدس مولانا سیّد انور حسین نفیس شاہ الحسینی دامت برکاتہم‘ نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا درج ذیل ارشاد ہمارے دل کی آواز ہے۔ حضرت مدظلہ فرماتے ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی جسارت کرنے والے یورپی اخبارات کے ذمہ داران صرف اور صرف قتل کے لائق ہیں‘ اس کے علاوہ ان کا کوئی علاج نہیں‘ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت عطا کی ہوتی تو میرا طرز عمل یہی ہوتا‘ کسی بھی طریقہ سے احتجاج میں شرکت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا جذباتی انداز ہے‘ اس لئے احتجاجی مظاہروں میں شرکت بھی سعادت ہے‘ مگر احتجاج پُرامن ہونا چاہئے۔“
(روزنامہ اسلام کراچی: ۲۱/فروری ۲۰۰۶ء)
اس لئے ہر مسلمان کو اپنی استعداد و حیثیت کے مطابق سعی و کوشش کرکے تحریک تحفظ ناموس رسالت میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے‘ یوں محبت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار اور شفاعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔

حضرت مولانا اسعد مدنی 
۷/محرم الحرام ۱۴۲۷ھ مطابق ۶/فروری ۲۰۰۶ء بروز پیر شام چھ بجے شیخ العرب والعجم‘ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہ کے خلف اکبر و جانشین‘ ازہر الہند دارالعلوم دیوبند کے سابق استاذ ‘ جمعیت علماء ہند کے امیر‘ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر‘ دارالعلوم دیوبند کے سرپرست اعلیٰ‘ بھارتی پارلیمنٹ لوک سبھا کے سابق رکن‘ بھارت میں مقیم کروڑوں مسلمانوں کے حقوق کے علمبردار‘ مظلوموں اور ان کے ماویٰ و ملجا‘ عالم اسلام کے عظیم راہ نما‘ بے دار مغز سیاسی لیڈر‘ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن‘ اصلاح و ارشاد اور سلوک و احسان کے ماہر‘ متبع سنت شیخ‘ لاکھوں انسانوں کے شیخ و مربی‘ اکابر علمائے دیوبند کے ترجمان‘ اسلاف کی روایات کے امین‘ بین الاقوامی شہرت کے حامل‘ فدائے ملت اور امیر الہند حضرت اقدس مولانا سیّد محمد اسعد مدنی تین ماہ صاحب ِ فراش رہنے کے بعد اپولو ہسپتال دہلی میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر راہی عالم آخرت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان للہ ما اخذ ولہ ما اعطی وکل شئی عندہ باجل مسمیٰ
حضرت اقدس مولانا سیّد اسعد مدنی رحمہ اللہ کی ولادت باسعادت دیوبند کے مضافات بچھراؤں ضلع سہارنپور میں ۶/ ذوالقعدہ ۱۳۴۶ھ مطابق ۲۷/اپریل ۱۹۲۸ء جمعہ کے دن ہوئی۔ بچپن ہی میں والدہ ماجدہ کا سایہ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔ دوسری طرف والد ماجد حضرت اقدس مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدر سرہ انگریز مخالفت میں اکثر و بیشتر پابند سلاسل ہوجاتے تو آپ کی تعلیم و تربیت اور نگرانی شیخ الاسلام حضرت مدنی قدس سرہ کے خادم و مسترشد اور دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی استاذ حضرت مولانا قاری اصغر علی مرحوم کے سپرد کردی گئی‘ چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مدنی قدس سرہ نے زمانہ اسارت میں اپنے لخت جگر کی تعلیم و تربیت اور نگرانی سے متعلق جناب قاری اصغر علی مرحوم کو لکھا:
”اسعد کی والدہ اور والد آپ ہی ہیں‘ او پر خدا ہے‘ اس کے سپرد کرتا ہوں‘ نہ کوئی بڑی بہن اور نہ ہی کوئی بھائی۔“
اس لئے قرآن کریم اور ابتدائی کتب کی تعلیم آپ نے حضرت قاری اصغر علی سے حاصل کی‘ جبکہ درس نظامی کی ابتدا سے دورئہ حدیث تک کی تعلیم آپ نے مادر علمی دارالعلوم دیوبند سے مکمل فرمائی اور ۱۹۴۹ء میں دورئہ حدیث پڑھ کر آپ نے فاتحہ فراغ پڑھا۔ آپ کے اساتذہ میں سے شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی ‘ حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
فراغت کے بعد غالباً چھ سال تک آپ نے مادر علمی دارالعلوم دیوبند میں متوسط درجات تک تدریس فرمائی۔ مگر حضرت والد ماجد قدس سرہ اور حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی وفات حسرت آیات کے بعد آپ کو مجبوراً سیاسی میدان میں آنا پڑا تو سلسلہ تدریس موقوف ہوگیا۔ شیخ الاسلام حضرت مدنی قدس سرہ کی رحلت کے وقت آپ کے سوا حضرت کے تمام بچے نابالغ اور چھوٹے تھے‘ چنانچہ حضرت مدنی قدس سرہ نے اپنی وفات سے پہلے تمام اہل خانہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ: اگر تم نے اللہ تعالیٰ سے لو لگائے رکھی تو دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی آپ کے قدم چومے گی‘ پھر حضرت نے اپنے خلف اکبر حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ”تم گھر میں سب سے بڑے ہو‘ ان سب کا خیال رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔“
حضرت مولانا اسعد مدنی قدس سرہ اپنی والدہ ماجدہ کے اکلوتے بیٹے تھے‘ جبکہ دوسرے بہن‘ بھائی آپ کی دوسری والدہ سے تھے‘ مگر آپ نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو کبھی سوتیلے پن کا احساس نہیں ہونے دیا۔ سب کی سرپرستی‘ سب کی تعلیم و تربیت‘ سب کی شادیاں اس اہتمام سے کیں ‘ جیسے کوئی باپ اپنے بچوں کی کیا کرتا ہے‘ حالانکہ شیخ الاسلام قدس سرہ کا جب انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی ملکیت میں سوائے اس معمولی رقم کے جو وفات سے قبل بنگلہ دیش کے تلامذہ نے بھیجی تھی‘ نقد کچھ نہ تھا‘ اس کو جب ورثا پر تقسیم کیا گیا تو غالباً ہر ایک کے حصہ میں دو دو سو روپے بھی نہیں آسکے‘ مگر بایں ہمہ آپ نے اپنے بہن بھائیوں اور والدہ ماجدہ کو ہر طرح کی راحت و آرام پہنچایا۔ ۱۹۶۳ء سے آپ باقاعدہ جمعیت علماء ہند کے ناظم عمومی قرار پائے اور بعد میں آپ کو متفقہ طور پر جمعیت علماء ہند کا امیر منتخب کرلیا گیا۔ بلاشبہ آپ نے اپنے والد ماجد کی جانشینی کا بجا طور پر حق ادا کیا۔ آپ بیک وقت متعدد محاذوں پر مصروف عمل رہے‘ آپ نے جہاں سیاسی میدان میں کود کر مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑی ‘ پرسنل لاء کا مسئلہ اٹھایا‘ اقلیتوں کے حقوق کا بیڑہ اٹھایا‘ وہاں آپ نے مسلمانوں کے دین و ایمان اور مذہب و عقیدہ کے تحفظ کی خاطر ہندوستان بھر کے دورے کئے‘ مسلمانوں کو بیدار کیا‘ ان کو دینی مسلکی اور مذہبی شعور بخشا‘ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے مسلم فنڈ قائم کیا‘ دینی مدارس‘ قرآنی مکاتب قائم فرمائے‘ مدارس و مکاتب کی سرپرستی فرمائی‘ کل ہند امارت شرعیہ کو فعال بنایا‘ بلاسود بینکاری کی بنیاد رکھی‘ اسے پروان چڑھایا‘ مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کے لئے متعدد پروگرام تجویز فرمائے‘ جدید مسائل کے حل کے لئے ہندوپاک بلکہ دنیا بھر کے علماء کے اجتماعات منعقد کرائے‘ غریب مسلمانوں کے لئے مفت علاج معالجہ اور فری میڈیکل سینٹروں کا اہتمام فرمایا‘ ہندو مسلم فسادات کی روک تھام کا لائحہ عمل تجویز فرمایا‘ آسام کے مسئلہ کو اٹھایا‘ مسلم اوقاف کے تحفظ کے لئے سعی و جدوجہد کی‘ مساجد و مقابر کے احترام و حفاظت کے لئے دن رات ایک کیا‘ تحفظ حرمین شریفین اور اسلامی شعائر کے تقدس پر کانفرنسیں منعقد فرماکر امت مسلمہ کی قیادت فرمائی‘ مسلک حقہ‘ مسلک احناف کے خلاف اٹھنے والی یورشوں کا قلع قمع کیا ‘ اسلاف بیزاری کی تحریک اور غیر مقلدیت کے خلاف میدان میں آئے اور حکومت سعودیہ کو اس فتنہ کی سنگینی سے آگاہ کرکے اس کا سدَِّباب کیا‘ اسی طرح جب بھولے بھالے اور سیدھے سادے مسلمانوں کو سارقین نبوت اور غلام احمد قادیانی کے زن‘ زر اور زمین کا لالچ دے کر گمراہ کرنے کی سازش کی تو حضرت مولانا سیّد اسعد مدنی قدس سرہ خم ٹھونک کر ان کے مقابلہ میں آئے اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت قائم فرماکر مسلمانوں کے دین و ایمان کے تحفظ میں فعال کردار ادا کیا‘ اس کے لئے مستقل فنڈ قائم فرمایا‘ مبلغین و مناظرین تیار فرمائے‘ پاکستان کے اکابر علماء کرام کو بلایا‘ ہندوستانی علماء کو اس فتنہ کے تعاقب کے لئے تیار فرمایا‘ تردید ِ قادیانیت کی خاطر قادیانی لٹریچر مہیا کیا اور تردید ِقادیانیت پر اکابر علمائے امت کی تصنیفات جمع کیں‘ ان کو سہل انداز سے مرتب کراکر شائع کیا اور جگہ جگہ ان کو پہنچانے کا انتظام فرمایا‘ غرض دینی‘ مسلکی اور سیاسی کوئی میدان ایسا نہیں تھا‘ جس میں آپ نے نمایاں خدمات انجام نہ دی ہوں۔ بلاشبہ اس وقت حضرت مولانا اسعد مدنی کی شخصیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہ کا محور اور امیدوں کا مرکز تھی‘ آپ دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں میں سے دسیوں کے رکن اور سرپرست تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے والد ماجد اور اسلاف و اکابر کی طرز پر سلوک و احسان کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں‘ اور لاکھوں انسان آپ کی برکت سے باخدا ہوگئے۔ چنانچہ آپ کا اصلاح و ارشاد کا بھی ایک وسیع حلقہ تھا‘ بلاشبہ آپ کے متعلقین و مسترشدین کی تعداد لاکھوں سے متجاوز تھی‘ اس طرح آپ کے ارادت مند ہندوستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ یورپ اور امریکا تک پھیلے ہوئے تھے‘ جن کی اصلاح و تربیت کے لئے سال میں ایک بار آپ ان ممالک میں تشریف لے جاتے اور ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے۔ وقت کی پابندی‘ حق گوئی و بے باکی آپ کا وصف خاص تھا‘ سادگی و بے تکلفی اور جود و سخا آپ کو اپنے والد ماجد سے ورثہ میں ملا تھا‘ شیخ الاسلام حضرت مدنی قدس سرہ کی طرح آپ  کا دستر خوان بھی بے حد وسیع تھا۔ غرضیکہ آپ آیت من آیات اللہ تھے‘ زندگی بھر مخلوق ِخدا کی فلاح و بہبود اور اصلاح و تربیت کے لئے مضطرب و بے چین رہے‘ اور اتحادِ امت کے لئے سرگردان و کوشاں رہے۔ بالآخر یکم شوال کوتیمم کرتے کرتے ان پر فالج کا اثر ہوا اور بے ہوش ہوگئے‘ تین ماہ تک اس کیفیت میں رہے مگر کرشمہ قدرت دیکھئے کہ وفات سے صرف دس منٹ پہلے آپ کو ہوش آیا اور زور زور سے اسم ذات کا ورد شروع کردیا۔ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر کسے معلوم تھا کہ یہ لقائے محبوب کی تیاری ہے‘ چنانچہ دس منٹ تک اسم ذات کا ذکر کرتے کرتے آپ نے اپنی آنکھیں بند کرکے زبان حال سے: لست علی صحبتکم بحریض فرماتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں پہنچ گئے‘ کل من علیہا فان‘ ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔“ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے‘ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے اخلاف کو ان کی حسنات کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانانِ ہندوستان کی کفالت و کفایت فرمائے۔ ادارہ بینات حضرت کی رحلت کو ذاتی سانحہ سمجھتا ہے اور حضرت کے اہل و عیال و متعلقین کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔
اشاعت ۲۰۰۶ ماہنامہ بینات, صفر المظفر ۱۴۲۷ھ بمطابق مارچ ۲۰۰۶ء, جلد 69, شمارہ