علی الفتاوی الہندیۃ ۱؍۲۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۱۴؍۱۱؍۱۴۱۹ھ
کیا اونٹ کا گوشت کھانا ناقضِ وضو ہے؟
سوال(۸۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا اونٹ کے گوشت کا استعمال ناقضِ وضو ہے، یعنی وضو کی حالت میں اگر کسی نے اونٹ کا گوشت کھایا تو کیا اس کا وضو ٹوٹ گیا؛ اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے:
عن البراء بن عازب رضي اللّٰہ عنہ قال: سئل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الوضوء من لحوم الإبل؟ فقال: توضؤوا منہا۔ (سنن أبي داؤد ۱۸۴)
اس حدیث شریف سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانا ناقض وضو ہے، پھر اگر آپ کے نزدیک ناقض وضو نہیں ہے تو اس حدیث کا کیا جواب ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اکثر علماء کے نزدیک یہ حدیث اپنے لغوی معنی پر محمول ہے، یعنی ’’توضؤا‘‘ سے مراد صرف ہاتھ دھونا ہے، چناںچہ کھانے سے پہلے اور بعد میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی جس روایت سے ہاتھ دھونا ثابت ہوتا ہے، وہاں بھی وضو کا لفظ ہے، اور بالاتفاق وہاں وضوء سے ہاتھ دھونا ہی مراد ہے؛ لہٰذا سنن ابوداؤد کی مذکورہ حدیث میں ’’توضؤا‘‘ سے ہاتھ اور منہ کو کلی کرکے صاف کرنا مراد ہے۔ بریں بناء حضرات خلفاء اربعہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ بہت سے صحابہ اور جمہور تابعین اور ائمہ ثلاثہ (امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ) کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
اور جو لوگ مثلاً امام احمد اور اسحق بن راہویہ وغیرہ اس حدیث کے ظاہری معنی پر محمول کرکے اونٹ کے گوشت کھانے سے نقض وضو کا حکم لگاتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ’’توضؤا‘‘ سے نماز والا وضو مراد لیا جائے تو بھی یہ حدیث منسوخ ہے؛ اس لئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا