وفي حدیث المغیرۃ بن شعبۃ رضي اللّٰہ عنہ … فتوضأ ومسح علی الخفین ۔ الحدیث۔ (صحیح البخاري ۱؍۳۳)
عن جعفر بن عمرو بن أمیہ الضمري أن أباہ أخبرہ أنہ رأی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یمسح علی الخفین۔ (صحیح البخاري ۱؍۳۳)
وقال الکرخي رحمہ اللّٰہ تعالیٰ: من أنکر المسح علی الخفین یخشی علیہ الکفر۔ (المحیط البرہاني ۱؍۳۳۹ إدارۃ القرآن کراچی) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ : احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۵؍۱؍۱۴۳۰ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ
موزوں پر مسح صحیح ہونے کی شرطیں
سوال(۸۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کس قسم کے موزے پر مسح کرنا جائز ہے؟ اور موزے پر مسح کے صحیح ہونے کے لئے کن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: خفین (چمڑے کے موزوں) پر مسح صحیح ہونے کی دس شرطیں ہیں:
(۱) ٹخنوں سمیت وہ پورے قدم کو چھپالیں۔
(۲) وہ قدم کی ہیئت پر بنے ہوئے اور پیر سے ملے ہوئے ہوں۔
(۳) وہ اتنے مضبوط ہوں جنہیں پہن کر جوتے کے بغیر ایک فرسخ (تین میل شرعی جس کی مسافت ۵؍کلومیٹر ۴۸۶؍ میٹر ۴۰؍سینٹی میٹرہوتی ہے) پیدل چلا جاسکتا ہو۔ (ایضاح المسائل ۷۰)
(۴) وہ پیروں پر بغیر باندھے رک سکیں۔
(۵) اتنے دبیز ہوں کہ پانی کو پیروں تک نہ پہنچنے دیں۔