عورت گنہگار ہوگی یا نہیں؟ اگر علم ہوجانے کے بعد استمتاع کرتا رہا تو کیا حکم ہوگا؟ نیز اگر وہ عورت مذکورہ بالا عمل نہیں کرتی تو جانبین سے تلویث گناہ کا اندیشہ ہے؟ بینوا وتوجروا۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر دوا کے ذریعہ حیض کا خون روک دیا جائے تو جب تک خون باہر نہ نکل آئے اس وقت تک حیض کے احکامات جاری نہ ہوںگے، وہ عورت بدستور نماز وغیرہ ادا کرے گی اور شوہر کے لئے اس سے استمتاع بھی درست ہوگا، خواہ اسے اِس دوا کے استعمال کا علم ہو یا نہ ہو؛ لہٰذا مسئولہ صورت میں آپ پر کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں ہے۔
ورکنہ بروز الدم من الرحم…، ووقت ثبوتہ بالبروز، فیہ ترک الصلوٰۃ ولو مبتدأۃ في الأصح۔ وتحتہ في الشامیۃ: أي ظہورہ منہ إلی خارج الفرج الداخل فلو نزل إلی الفرج الداخل فلیس بحیض في ظاہر الروایۃ۔ (الدر المختار مع الشامي ۱؍۴۵۷ زکریا، شامي ۱؍۲۸۴ کراچی، بہشتي زیور أختري ۲؍۶۱)
یجب أن یعلم بأن حکم الحیض والنفاس والاستحاضۃ لا یثبت إلا بخروج الدم وظہورہ، وہٰذا ہو ظاہر مذہب أصحابنا رحمہم اللّٰہ وعلیہ عامۃ مشائخنا۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱؍۴۷۶ رقم: ۱۲۶۹ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۳؍۱۲؍۱۴۱۰ھ
حالتِ حیض میں کون کون سی عبادت ممنوع ہے؟
سوال(۱۳۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر عورت حالت حیض میں ہو، تو شبِ برأت میں جاگ کر کوئی بھی عبادت کرسکتی ہے، اگر ہاںتو وضو کرکے کیا تسبیح وغیرہ پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حالتِ حیض میں مسجد میں جانا، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا،