کہ: اذان کے وقت دعا مانگنے کی فضیلت کیا ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ اذان کے وقت دعا قبول ہوتی ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اذان کے دوران جو دعا مانگی جاتی ہے وہ بارگاہِ خداوندی سے رد نہیں ہوتی، حضرت سہل بن سعد ص فرماتے ہیں کہ آنحضرت ا نے ارشاد فرمایا کہ: ’’دو اوقات ایسے ہیں کہ ان میں بہت کم کسی کی دعا رد ہوتی ہے: (۱) اذان کے وقت کی دعا (۲) میدانِ کارزار میں عین جنگ کے وقت کی دعا‘‘۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ’’ان دو اوقات میں آسمان سے قبولیت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں‘‘۔
عن سہل بن سعد الساعدي رضي اللّٰہ عنہ قال: ساعتان تفتح فیہما أبواب السماء، وقل داع ترد علیہ دعوتہ: حضرۃ النداء بالصلاۃ والصف في سبیل اللّٰہ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي ۱؍۶۰۵ رقم: ۱۹۳۹ بیروت)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ مجھ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ام سلمہ تم مغرب کی اذان کے وقت یہ دعا پڑھاکرو: اَللّٰہُمَّ بِاسْتِقْبَالِ لَیْلِکَ وَاِدْبَارِ نَہَارِکَ وَاَصْوَاتِ دُعَائِکَ وَحُضُوْرِ صَلَوَاتِکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تَغْفِرَلِیْ‘‘۔ (کتاب الدعا للطبراني ۱۵۴)
یعنی ’’اے اللہ ! میں آپ کی رات کے آنے اور دن کے رخصت ہونے اور آپ کی طرف بلانے والے مؤذنوں کی آوازوں اور آپ کی عبادات کے وقت حاضر ہونے کے توسط سے آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے بخش دیجئے‘‘۔
نیز اذان کے فوراً بعد کا وقت بھی قبولیت کا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’مؤذن کی اذان کا جواب دو پھر جو مانگوگے تمہیں عطا ہوگا‘‘۔