جدید انتظامیہ نے جدت کرکے پوری صف کا گدا بنایا ہے، بعض نمازی کہتے ہیں کہ پوری صف پر روئی کا گدا بچھانا جائز نہیں، اس پر نماز نہیں ہوتی۔ واضح ہو کہ آدھا گدا گھٹنوں تک سجدہ کی حالت میں آتا ہے اور پورا گدا سجدہ کی جگہ پیشانی تک آتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ آدھا صحیح ہے یا پورا صحیح ہے، یا دونوں طرح درست ہے؟
اسی طرح اب مساجد میں کارپیٹ کے نیچے فوم بچھانے لگے ہیں، تو بعض فوم تو ہلکے والے ہوتے ہیں، جب کہ بعض فوم اتنے موٹے ہوتے ہیں کہ ان پر پیشانی ٹک نہیں پاتی، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد میں بچھائے جانے والے گدے اور فوم اگر اتنے ہلکے ہوں کہ سجدہ کرتے وقت پیشانی زمین پر ٹک جاتی ہے، تو ایسے گدوں پر نماز پڑھنا فی نفسہٖ جائز اور درست ہے، خواہ پوری صف کے ہوں یا آدھی صف کے؛ لیکن اگر گدے اور فوم اتنے دبیز ہوںکہ پیشانی ان پر نہ ٹکے، تو ان پر سجدہ درست نہ ہوگا۔
ومن ہنا یعلم الجواز علی الطراحۃ القطن، فإن وجد الحجم جاز وإلا فلا۔ (شامي / باب صفۃ الصلاۃ ۲؍۲۰۶ زکریا، ۱؍۵۰۱ کراچی، فتح القدیر ۱؍۳۰۴، الطحطاوي ۱۲۶کراچي، ۸۴-۸۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۷؍۶؍۱۴۱۴ھ
ہر رکعت میں دونوں سجدے فرض ہیں، اور اُنہیں پے در پے کرنا واجب ہے
سوال(۲۷۰):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز میں دونوں سجدے فرض ہیں یا دونوں واجب ہیں یا ایک فرض اور ایک واجب، نیز اگر