علی مسائل الباب ما سوی الذکر بین السجدتین ظاہرۃ، لما فیہ من صیغۃ الأمر المقتضیۃ للوجوب۔ (إعلاء السنن، الصلاۃ / باب وجوب الرفع من السجدۃ والجلسۃ بین السجدتین واستحباب الذکر بینہما وافتراض السجدۃ الثانیۃ ۳؍۴۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۱؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
مائک خراب ہوجانے کی وجہ سے بعض مقتدیوں کا پہلی رکعت کا ایک سجدہ چھوٹ گیا؟
سوال(۲۷۱):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: امام صاحب عیدالاضحی کی نماز پڑھارہے تھے، پہلی رکعت کے سجدہ میں تھے کہ اسی دوران مائک خراب ہوگیا، جس کی بناء پر امام صاحب اور کچھ مقتدی کھڑے ہوگئے، امام صاحب نے دوسری رکعت کی قرأت شروع کردی، تو اکثر لوگ دوسرے سجدہ کی تکبیر کا انتظار کرکے ایک ہی سجدہ پر اکتفا کرکے کھڑے ہوگئے، اور پھر بقیہ نماز ادا کی، تو گویاکہ پہلی رکعت میں زیادہ زیادہ تر لوگوں کا ایک ہی سجدہ ہوپایا تھا، جس کی وجہ سے لوگوں کو تشویش ہوئی اور شور وغل ہوا، تو امام صاحب نے فرمایا کہ جم غفیر کی وجہ سے نماز ہوگئی، کسی کو لوٹانے کی ضرورت نہیں، تو کیا جن لوگوں کا ایک سجدہ ہوا ہے ان لوگوں کی نماز ہوگئی یا نہیں، لوٹانا تو ضروری نہ ہوگا؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسئولہ صورت میں جن نمازیوں کا سجدہ چھوٹ گیا ان کی نمازیں فاسد ہوگئیں، اور اب چوںکہ وقت نکل چکا ہے؛ لہٰذا قضا کی بھی کوئی صورت نہیں ہے، اور امام صاحب کا یہ کہنا کہ جم غفیر کی وجہ سے سجدۂ سہو کی ضرورت نہیں، اس وقت صحیح ہوتا جب کہ کوئی واجب چھوٹ جاتا اور یہاں واجب نہیں؛ بلکہ فرض چھوٹ گیا؛ لہٰذا اس کی تلافی سجدۂ سہو سے نہیں ہوسکتی، غالباً واجب والے مسئلہ سے امام صاحب کو اشتباہ ہوگیا۔
السجود الثاني فرض کالأول بإجماع الأمۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۷۰)