أو دخل معہ فأفسدہا فلا قضاء علیہ۔ (البحر الرائق ۲؍۱۶۳)
الأصل في ہذا أن المتروک ثلاثۃ أنواع: فرض وسنۃ وواجب، ففي الأول إن أمکنہ التارک بالقضاء یقضي وإلا فسدت صلاتہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۲۶ باب سجود السہو، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۳۸۷ رقم: ۲۷۵۱ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۱۸؍۱؍۱۴۲۴ھ
قیام، رکوع اور سجدہ میں ترتیب لازم ہے
سوال(۲۷۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا ارکانِ نماز، قیام، رکوع اور سجدہ کو ترتیب کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے؟ اگر خلاف ترتیب مثلاً رکوع کو سجدہ پر مقدم کردیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز میں قیام، رکوع اور سجدہ میں ترتیب فرض ہے؛ لہٰذا اگر رکوع کرکے پھر قیام کرلیا یا رکوع سے قبل سجدہ کرلیا، تو ازسر نو رکوع اور سجدہ کرنا پڑے گا ورنہ نماز درست نہ ہوگی۔
وترتیب القیام علی الرکوع والرکوع علی السجود والقعود الأخیر علی ما قبلہ۔ (درمختار) أي تقدیمہ علی الرکوع حتی لو رکع ثم قام لم یعتبر ذٰلک الرکوع، فإن رکع ثانیاً صحت صلا تہ لوجود الترتیب المفروض۔ (شامي ۲؍۱۳۸ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۷۰، شرح وقایۃ ۱؍۱۴۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۱؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
قعدۂ اخیرہ میں فرض کی مقدار؟
سوال(۲۷۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے