میں کہ: قعدۂ اخیرہ میں فرض کی مقدار کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: قعدۂ اخیرہ میں کم از کم اتنی دیر بیٹھنا فرض ہے جس میں پوری التحیات جلدی سے جلدی پڑھی جاسکتی ہو۔
أخرج أبوداؤد عن القسم بن مخیمرۃ قال: أخذ علقمۃ بیديّ، فحدثني أن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ أخذ بیدہ وأن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أخذ بید عبد اللّٰہ، فعلمہ التشہد في الصلاۃ، فذکر مثل دعا حدیث الأعمش، إذا قلت ہٰذا أو قضیت ہٰذا، فقد قضیت صلاتک إن شئت أن تقوم فقم، وإن شئت أن تقعد فاقعد۔ (سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب التشہد ۱؍۱۳۹ رقم: ۹۷۰ دار الفکر بیروت)
وقدر الفرض في القعدۃ ہو القعود مقدار أدنیٰ قراء ۃ التشہد وہو أسرع ما یکون مع تصحیح الألفاظ۔ (حلبي کبیر ۲۹۰)
والقعود الأخیر قدر التشہد وہي فرض بإجماع الأمۃ، قال الشیخ قاسم فی شرح الدر: قد وردت أدلۃ کثیرۃ بلغت مبلغ التواتر علی أن القعدۃ الأخیرۃ فرض۔( الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۷۰، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۲۸ رقم: ۱۹۳۹ زکریا)
ومنہا: القعود الأخیر مقدار التشہد کذا في التبیین۔ (البحر الرائق ۱؍۲۹۴) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۱؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
سونے کی حالت میں ارکانِ نماز اداکرنا؟
سوال(۲۷۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی شخص دورانِ نماز سو گیا اور ایک دو رکن اس کا سونے کی حالت میں ادا ہوا، بایں طور کہ ایسے بالکل شعور نہ رہا، مثلاً سوتے ہوئے سجدہ، یا رکوع یا قرأت کی اور ان ارکان کی ادائیگی کے وقت اسے بالکل تیقظ اور بیداری نہ رہی ہو، تو ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟