باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ دونوں صورتوں میں مقتدی کے اس عمل سے گوکہ نماز میں فساد نہیں آیا؛ اس لئے کہ موجبِ سجدۂ سہو جب مقتدی سے صادر ہوجائے تو مقتدی کی نماز ہوجاتی ہے؛ تاہم بلاعذر ایسا نہیں کرنا چاہئے؛ اس لئے کہ ایسا عمل خشوع وخضوع کے خلاف ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ ۱۶؍۳۱۰، امداد الفتاویٰ ۱؍۲-۴، فتاویٰ رحیمیہ ۴؍۳۴۳)
لو أتم المؤتم التشہد، بأن أسرع فیہ وفرغ منہ قبل إتمامہ فأتی بما یخرجہ من الصلاۃ کسلام أو کلام أو قیام جاز أي صحت صلا تہ لحصولہ بعد تمام الأرکان۔ (شامي ۲؍۲۴۰ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ۲۲؍۶؍۱۴۲۲ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
قعدۂ اولیٰ میں بھول سے ’’السلام‘‘ کہہ دیا؟
سوال(۳۶۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: لفظ ’’السلام‘‘ دو مرتبہ کہہ کر نماز کی تکمیل کرنا واجب ہے، اور عام فقہاء کے نزدیک ایک ’’السلام‘‘ کہتے ہی نماز پوری ہوجائے گی؛ کیوں کہ ان کے نزدیک دوسرا ’’السلام‘‘ سنت ہے۔ (نور الایضاح ۷۰، حاشیہ ۳)
تو اب عام فقہاء کی طرف نظر کرتے ہوئے امام صاحب نے اگر چار یا تین رکعت والی نماز میں دو رکعت پر بھولے سے سلام کہہ دیا، تو نماز نہ ہونی چاہئے؛ کیوں کہ اس وقت کوئی مقتدی آکر دیکھے کہ امام نے ایک طرف ’’السلام‘‘ کہہ دیا، تو اس کی اقتداء درست نہیں ہے؛ کیوں کہ نماز کی تکمیل ہوچکی ہے، بعض علماء نے کہتے ہیں کہ سجدۂ سہو سے نماز ہوجائے گی، کیا یہ صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اقتداء صحیح ہونی چاہئے نہ کہ اعادہ کرنا، جو افضل ہو، وضاحت فرمادیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:قعدۂ اخیرہ میں تکمیلِ صلاۃ کی نیت سے ’’السلام‘‘ کا