کے قریب ہی تھا کہ اچانک یاد آیا اور وہ واپس بیٹھ گیا، پھر از سرنو تشہد پڑھا اور سلام پھیر کر سجدۂ سہو کیا، پھر مکمل التحیات ودعاوغیرہ پڑھ کر نماز پوری کی، تو مذکورہ صورت میں نماز ہوئی یا نہیں؟ اگر نہیں ہوئی تو پھر ایسی صورت پیش آنے کی صورت میں نماز کس طرح مکمل کی جائے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں نماز درست ہوگئی، ایسی شکل پیش آنے کی صورت میں رکوع وسجود سے قبل قعدۂ اخیرہ میں واپس آنے کے بعد پہلے تشہد پڑھے اور پھر سجدۂ سہو کرے، اس کے بعد تشہد ودعا وغیرہ پڑھ کر نماز کو مکمل کرے۔ (مستفاد: فتاویٰ دارالعلوم ۲؍۳۸۳)
إن قعد في الرابعۃ مثلاً قدر التشہد ثم قام أي ولم یسجد عاد وسلم أي عاد للجلوس لما مرَّ أن ما دون الرکعۃ محل للرفع، وفیہ إشارۃ إلی أنہ لا یعید التشہد… والعود للتسلیم جالساً سنۃٌ۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۵۵۳ زکریا، ۲؍۸۷ کراچی، البحر الرائق ۲؍۱۸۴، فتح القدیر ۱؍۵۱۱ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۵؍۲؍۱۴۲۲ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
چار یا تین رکعت والی نماز میں دو رکعت پر سلام پھیردینا؟
سوال(۳۸۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی شخص نے چار یا تین رکعت والی نماز میں قعدۂ اولیٰ کے بعد سلام پھیر دیا اور قعدۂ اولیٰ کو قعدۂ اخیرہ سمجھا، تو ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟اور اگر یہ سمجھ کر قعدۂ اولیٰ میں سلام پھیرا کہ وہ مسافر ہے اور اس کے ذمہ دو ہی رکعت واجب ہیں، حالاںکہ وہ مقیم تھا تو کیا حکم ہوگا؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر کسی شخص نے چار یا تین رکعت والی نماز میں قعدۂ اولیٰ کے بعد یہ سمجھتے ہوئے سلام پھیرا کہ یہی قعدۂ اخیرہ ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی، اور اخیر میں سجدۂ