سہو سے کام بن جائے گا؛ لیکن اگر مذکورہ نمازوں میں قعدہ کے بعد یہ سمجھ کر سلام پھیرا کہ اس پر دو ہی رکعت واجب ہے، حالاںکہ درحقیقت چار واجب تھیں، مثلاً: مقیم شخص اپنے کو مسافر سمجھتے ہوئے دو رکعت پر سلام پھیردے، یا ظہر کی نماز کو جمعہ کی نماز سمجھتے ہوئے دو رکعت پر سلام پھیرے، تو اس صورت میں سلام پھیرتے ہی نماز فاسد ہوجائے گی۔
إلا السلام ساہیاً، للتحلیل أي للخروج من الصلاۃ قبل إتمامہا علی ظن إکمالہا فلا یفسد، بخلاف السلام علی إنسان للتحیۃ، أو علی ظن أنہا ترویحۃ مثلاً فإنہ یفسدہا مطلقاً۔ (درمختار) قال الشامي: أي بأن کان یصلي العشاء فظن أنہا التراویح ومثلہ ما لو صلی رکعتین من الظہر فسلم علی ظن أنہ مسافر أو أنہا جمعۃ أو فجر۔ (شامي ۲؍۳۷۲ زکریا، طحطاوي ۱۷۶، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۴۱۳ رقم: ۲۸۲۷ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۱؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
چار رکعت والی نماز میں امام نے تیسری پر سلام پھیردیا؟
سوال(۳۸۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: امام صاحب نے ظہر کی نماز میں تین رکعت پر ہی قعدۂ اخیرہ کرکے نماز پوری کردی، بعض لوگ ایسے تھے کہ جن کی ایک رکعت دو رکعت تین رکعتیں ہوئی تھیں، تو پھر امام صاحب نے نماز دوبارہ ادا کرائی، جس میں رکعت چھوڑنے والے بھی تھے اور نئے لوگ بھی تھے، جن کو کوئی رکعت نہیں ملی تھی، تو کس کی نماز ہوئی اور کس کی نہیں ہوئی؟ اور نہ ہونے کا سبب بھی بتائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:تین رکعت پر سلام پھیرنے کی وجہ سے امام اور مقتدی سبھی کی نماز فرض باطل ہوگئی اور دوبارہ نماز گویاکہ از سرنو پڑھی گئی ہے؛ لہٰذا دوسری جماعت میں