شریک سبھی لوگوں کی نماز درست اور صحیح ہوجائے گی، خواہ وہ پہلی نماز میں شریک رہے ہوں یا بعد میں آئے ہوں، یا بیچ میں شریک ہوئے ہوں۔
قال الملا علي القاري: لأن صلاۃ الإمام متضمنۃ بصلاۃ المقتدي صحۃ وفساداً لقولہ علیہ السلام: الإمام ضامن۔ (مرقاۃ المفاتیح)
إن صلاۃ الإمام متضمنۃ لصلاۃ المقتدي فإذا صحت صلاۃ الإمام صحت صلاۃ المقتدی إلاَّ لمانع اٰخر، وإذا فسدت صلا تہ فسدت صلاۃ المقتدي؛ لأنہ متی فسد الشيء فسد ما في ضمنہ۔ (شامي ۱؍۵۹۱ کراچی، شامي ۲؍۳۴۰ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۷؍۴؍۱۴۱۵ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
چار رکعت پر قعدہ کرکے بھولے سے پانچویں کے ساتھ چھ رکعت پوری کرلی؟
سوال(۳۹۰):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہم نے نماز میں چار فرض رکعت کی نیت باندھی اور چار پوری کرکے پانچویں کے لئے کھڑے ہوگئے، تو چھٹی بھی ملالی اور نماز پوری کرلی تو چار رکعت فرض ہماری ادا ہوئی یا سب نفل ہوگئی یا فرض دوبارہ پڑھنا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں اگر چار رکعت پر قعدہ کرکے مزید دور رکعت ملائی ہے، تو چار رکعت فرض ہوگئی، اور دو رکعت نفل تاہم اس میں سجدۂ سہو ضروری ہے، اگر سجدۂ سہو نہ کیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوگی۔