سئل أبو القاسم عن أہل مسجد أراد بعضہم أن یجعلوا المسجد رحبۃً، والرحبۃ مسجدًا، أو یتخذوا لہ بابًا، أو یحولوا بابہ عن موضعہ، وأبی البعض ذٰلک، قال: إذا اجتمع أکرہم وأفضلہم، لیس للأقل منعہم۔ (رد المحتار، کتاب الوقف / مطلب في جعل شيء من المسجد طریقًا ۴؍۳۷۸ کراچی)
إن القیم لیس لہ إقراض مال المسجد۔ (البحر الرائق / الوقف ۵؍۲۳۹ کراچی، الفتاویٰ الہندیۃ / الودیعۃ ۴؍۳۳۸، مجمع الأنہر / الودیعۃ ۳؍۴۶۷) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۷؍۶؍۱۴۱۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
صاحبِ نصاب کا زکوٰۃ کی رقم سے قرض مانگنا
سوال(۲۳۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کچھ لوگ ہمارے پاس سے زکوٰۃ کی رقم قرض کی نیت سے مانگتے ہیں، حالاںکہ وہ خود صاحبِ نصاب ہیں، تو کیا ان کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صاحبِ نصاب شخض کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں، اور زکوٰۃ کی رقم قرض کے طور پر بھی نہ دی جائے؛ کیوںکہ اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر لازم آتی ہے، جو پسندیدہ نہیں ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ: {اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسَاکِیْنِ} [التوبۃ: ۶۰]
عن عطاء بن یسار أن رسول اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا تحل الصدقۃ لغني إلا لخمسۃ: لغاز في سبیل اللّٰہ، أو لعامل علیہا، أو لغارم۔ (سنن أبوداؤد / باب من یجوز لہ أخذ الصدقۃ وہو غني ۱؍۲۳۱ رقم: ۱۶۳۵، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۰۲ رقم: ۴۱۳۱ زکریا)
ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیۃ من أي مال کان۔ (درمختار مع الشامي ۳؍۲۹۵ زکریا)