نیز آج کل جگہ جگہ مساجد میں اور غیر مساجد میں مکاتب کھلے ہیں، جس میں مقامی بچے ابتدائی تعلیم حاصل کرتے ہیں، بیرونی طلبہ بالکل نہیں ہوتے، ایسے مکاتب والے بھی زکوٰۃ وصول کرتے ہیں اور حیلہ کرکے مدرسین کی تنخواہ اور تعمیر میں رقم خرچ کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اگر زکوٰۃ کی رقم وصول نہ کی جائے تو یہ مکاتب کیسے چلیںگے، جب کہ لوگ عطیہ کی رقم دینے کو تیار نہیں ہیں؟
گوپاگنج میں ایک بڑے مدرسہ نے پندرہ بیس لاکھ کی زمین خریدی اور زکوٰۃ کی رقم پیشگی وصول کرکے حیلہ کرکے اس سے قیمت ادا کی گئی، جس کا اثر رمضان میں مدارس کے چندوں پر پڑا، ایسا کرنا کہاں تک درست ہے؟ امید ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیںگے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حیلے کے متعلق دو بحثیں قابل غور ہیں:
پہلی بحث یہ ہے کہ حیلہ کرنا کب جائز ہے؟ تو اس سلسلے میں حکم یہ ہے کہ جہاں کوئی شرعی ضرورت ہو اور اس کی تکمیل حیلے کے بغیر ممکن نہ رہے، تو اس جگہ حیلہ کرنے کی گنجائش ہے، اور جہاں ضرورت نہ ہو یاضرورت تو ہو مگر حیلے کے بغیر ضرورت پوری ہو سکتی ہو تو وہاں حیلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اسکول چلانے کے لئے یا تعمیرات کے لئے یا چھوٹے مکاتب کے لئے جن میں مقامی بچے پڑھتے ہیں حیلہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس طرح کے سب کام عطیہ کی رقم سے پورے کرنے چاہئے۔
والحق أنہ کان ذلک لغرض صحیح فیہ رفق للمعذور، ولیس فیہ إبطال لحق الغیر فلا بأس بہ من ذٰلک کما في قولہ تعالی: {وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہٖ وَلَا تَحْنَثْ} وإن کان لغرض فاسد کإسقاط حق الفقراء من الزکاۃ بتملیک مالہ قبل الحول لولدہ أو نحو ذلک فہو حرام أو مکروہ۔ (عمدۃ القاري ۹؍۱۰)
إن کل حیلۃ یحتال بہا الرجل لإبطال حق الغیر أو لإدخال شبہۃ فیہ أو