لیکن صدقۂ واجبہ، نذر یا قربانی میں اگر بکرا ہو تو کم از کم ایک سال کا اور کٹرا، گائے وغیرہ دوسال اور اونٹ کم از کم پانچ سال کا ہونا لازم ہے۔
وہو ابن خمس من الإبل، وحولین من البقر والجاموس، وحول من الشاۃ۔ (تنویر الأبصار ۹؍۴۶۶ زکریا) فقط واﷲتعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱؍۱۱؍۱۴۲۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
صدقہ کا گوشت تقسیم کرکے مابقیہ اپنے استعمال میں لانا ؟
سوال(۳۵۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: صدقہ کا گوشت بانٹنے کے بعد تھوڑا بہت استعمال میں لاسکتے ہیں یانہیں؟ نیز یہ بھی وضاحت فرمادیں کہ صدقہ کے جانور کی عمر کتنی ہو؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر یہ گوشت صدقۂ نافلہ کا ہے، یعنی ندر یا منت یا زکوٰۃ وغیرہ کی رقم کا نہیں ہے، تو اس کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا بھی درست ہے، مگر یہاں یہ واضح رہنا چاہئے کہ آج کل لوگوں نے بالخصوص بیماروں کی شفایابی کے لئے بکرے کے صدقہ کو ضروری سمجھ لیا ہے؛ حالاںکہ اس التزام کی شریعت میں کوئی اصل نہیں؛ بلکہ علماء نے لکھا ہے کہ اگر اس عقیدے سے بکرا وغیرہ ذبح کیا جائے کہ یہ مریض کی بیماری کو دور کرنے والا اور اس کی بلا کو ٹالنے کا ذریعہ ہوگا، تو ایسا بکرا مردار کے حکم میں ہے، جس کا کھانا امیر وغریب کسی کے لئے جائز نہیں، بہر حال صدقہ میں بکرے کا التزام محض جہالت ہے، بہتر یہ ہے کہ اس جاہلانہ رسم کو ختم کرنے کے لئے بکرے کے بجائے روپئے پیسے وغیرہ کا صدقہ کیا جائے۔ (مستفاد: امداد الفتاویٰ ۵؍۳۰۸)
قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ} [المائدۃ: ۳]