باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب باللّٰہ التوفیق: روزہ کی حالت میں اگر خود بخود قے ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے منہ بھر ہو یا اس سے کم، اور اگر جان بوجھ کر روزہ یاد ہونے کی حالت میں مثلاً انگلی ڈال کر قے کی تو منہ بھر کر قے کرنے کی صورت میں بالاتفاق روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اگر منہ بھر سے کم ہے تو اس بارے میں اختلاف ہے، حضرت امام محمدؒ سے ظاہر الروایہ میں مروی یہ ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا، جب کہ حضرت امام ابویوسفؒکا قول یہ ہے کہ روزہ نہیں ٹوٹے گا، بعض فقہاء نے امام ابویوسفؒ کے قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام محمد ؒ کے قول میں احتیاط زیادہ ہے۔ (کتاب المسائل ۲؍۱۵۵- ۱۶۳)
وإن ذرعہ القيء وخرج ولم یعد لا یفطر مطلقاً ملأ أو لا، فإن عاد بلا صنعہ ولو ہو ملأ الفم مع تذکرہ للصوم لا یفسد، خلافاً للثاني، وإن أعادہ أفطر إجماعًا إن ملأ الفم وإلا لا، ہوالمختار۔ وإن استقاء أي طلب القي عامداً أي متذکرًا لصومہ إن کان مِلء الفم فسد بالإجماع مطلقًا، وإن أقل لا، عند الثاني وہو الصحیح۔ لکن ظاہر الروایۃ کقول محمدؒ إنہ یفسد کما في الفتح عن الکافي۔ (درمختار، کتاب الصوم / باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ ۳؍۳۹۲-۳۹۳ زکریا، مراقي الفلاح / باب في بیان ما لا یفسد الصوم ۳۶۲ کراچی، ہدایۃ ۱؍۲۱۸، البحر الرائق ۲؍۲۷۴ کراچی)
وإن استقار عمداً وخرج إن کان مل الفم فسد صومہ بالإجماع ……وإن کان أقل من مل فمہ أفطر عند محمدؒ … ولایفطر عند أبي یوسف وہو المختار عند بعضہم لکن ظاہر الروایۃ کقول محمد ذکرہ في الکافي۔ (فتح القدیر ۲؍۳۴۰ دار الفکر بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ :احقر محمد سلمان منصورپوری ۸؍۳؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح :شبیر احمد عفا اللہ عنہ