باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:زندگی میں یا مرنے کے بعد دودھ بخشوانے کی رسم بے اصل ہے کیونکہ بچپن میں ماں جو بچے کو دودھ پلاتی ہے اس احسان کا بدلہ اولاد کبھی ادا نہیں کرسکتی ہے پھر اس کے بخشنے کا کیا مطلب؟ اور جو شوہر مر جائے تو بیوی کو سامنے لا کر اس سے دین مہر معاف کرانا ایک جبریہ رسم ہے، اس زبردستی کی معافی سے دین مہر معاف نہیں ہو سکتا، اسی طرح بچوں کی پرورش کی قسم کھانا یا بیوی کی وفات پر یہ قسم کھانا کہ میں شادی نہ کروں گا یہ سب جاہلانہ باتیں ہیں، شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں ہے ایسی چیزوں سے احتراز لازم ہے۔ (مستفاد فتاویٰ محمودیہ میرٹھ ۱۳؍۴۴۸، اغلاط العوام ۲۴۸) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۷؍۲؍۱۴۳۴ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
بیٹے سے ناراضگی کی حالت میں باپ کا انتقال ہو جائے تو بیٹا کیا کرے؟
سوال(۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میرے والد صاحب کا چند دن پہلے انتقال ہوگیا، وہ مجھ سے ناراض تھے، جب سے وہ اللہ کو پیارے ہوئے ہیں، مجھے بہت یاد آتے ہیں، اور خواب میں ڈراؤنی شکل میں آتے ہیں، مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ ابا کی ناراضگی کی وجہ سے پوری زندگی مجھ پر پھٹکار پڑے گی، اس سے کس طرح نجات پاسکتا ہوں؟ یہ گناہ کیسے صاف ہوسکتے ہیں، اور میرے ابا اب مجھ سے کس طرح خوش ہوسکتے ہیں، اس کا جواب دے کر میری پریشانی دور فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:والد صاحب کی وفات کے بعد اب اُن کو خوش کرنے اور اس گناہ کے معافی کی صورت یہ ہے کہ آپ اپنے جرم اور غلطی کی اللہ سے توبہ واستغفار کریں،