اکیس دن کاتسلسل نہ ہو۔کبھی مرغی کوہُش کر کے بھگا دیایا انڈے کو مرغی کے نیچے سے نکال لیا اور دس گھنٹے کے بعد پھر رکھ دیا تو اس فصل سے اور تسلسل کی کمی سے انڈے میں جان نہیں آئے گی اور اس میں بچہ نہیں پیدا ہوگا۔ اسی طرح مسلسل چالیس دن شیخ کی صحبت میں رہے تو نفع ِکامل ہوگا۔
انوارِ یقین اہل اللہ کے قلوب سے ملتے ہیں
ایک شخص نے لکھا کہ حضرت! کیا شیخ سے صرف خط وکتابت سے ہم ولی اللہ نہیں ہوسکتے؟ فرمایا کہ اگربیوی لاہور میں اور شوہر کراچی میں ہے اور دونوں عمر بھر خط وکتابت کرتے رہیں تو کیا بچہ پیداہوگا؟اصل میں شیخ کی خدمت میں جسم کے ساتھ حاضر رہنے سے شیخ کے قلب سے مرید کے قلب میں انوارِ یقین وانوارِ نسبت منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ کتابوں سے ہمیں شریعت کے کمیات ملتے ہیں یعنی مقادیرِاحکامِ شرعیہ کہ مغرب کی تین رکعات ہیں، عشاء کی چار، فجر کی دو ہیں وغیرہ، لیکن کس کیفیت سے ہم نماز پڑھیں؟ کس درد سے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہیں ؟ کس کیفیت ِایمانی سے اللہ کانام لیں؟یہ کیفیات ملتی ہیں اللہ والوں کے سینوں سے۔
کمیّاتِ احکامِ شرعیہ کے ملتے ہیں کتابوں سے اور کیفیاتِ ایمانیہ ملتی ہیں اہل اللہ کے سینوں سے۔ ان کے دل کانورِ یقین ان کے پاس بیٹھنے والوں کے دلوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اے علمائے دین! میرے علم میں جو برکت آپ دیکھ رہے ہیں یہ خالی کتب بینی سے نہیں حاصل ہوئی، بلکہ قطب بینی سے حاصل ہوئی ہے۔ میں نے کتب بینی کے ساتھ قطب بینی بھی کی ہے۔ میں نے شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی، مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی، مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی۔یہ حضرات اپنے وقت کے قطب تھے۔
اگر آج بھی وہ علمائے دین جن کاتعلق کسی سے نہ ہو اگر کسی اللہ والے سے جس سے مناسبت ہو تعلق قائم کرلیں تو زندگی کامزہ آجائے۔