توفیقِ عمل اور عمل میں اخلاص اہل اللہ کی صحبت سے ملتا ہے
صرف علم کافی نہیں ہے،یہ باتیں سن لینا کافی نہیں ہے،جب تک اللہ تعالیٰ کی توفیق بھی شامل نہ ہو۔ بہت سے باورچی یخنی پکاپکا کر پلارہے ہیں، دوکان کھولے ہوئے ہیں، سب کو یخنی پلاپلا کر تگڑا کررہے ہیں،لیکن ظالم خود نہیں پیتا ۔بس یہ حال ہے اس واعظ اور جامع الملفوظات کاجو اپنے علم پر عمل نہ کرے۔ دوسرے لوگ اس کے ملفوظات پڑھ کر اورعمل کر کے صاحب ِنسبت ہورہے ہیں اور یہ خود اللہ سے محروم ہے، گناہوں کے بادلوں میں اس کی نسبت مع اللہ کاچاند پوشیدہ ہے۔ جتنااللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا ہے اس پر عمل کر کے دیکھیے۔ بدنگاہی گناہ ہے یہ معلوم ہے لیکن یہ معلوم ہونا کافی نہیں بدنگاہی سے بچیے تب یہ معلوم معمول بنے گا۔ علم پر عمل اور عمل میں اخلاص ڈال دیجیے پھر دیکھیےکیا ملتا ہے۔ کیوں کہ اگر دکھاوا ہے تو بھی عمل قبول نہیں ہے۔ اور توفیق ِعمل اور عمل میں اخلاص اہل اللہ کی صحبت سے ملتا ہے۔ لہٰذا اللہ والوں کی صحبت کے بغیر تو کام بنتا ہی نہیں۔
ولایت کے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم!صرف نبوت کا دروازہ بند ہوا ہے، بڑے سے بڑے اولیاء کادروازہ کھلا ہوا ہے۔ پھر حضرت نے یہ شعر پڑھا تھا ؎
ہنوز آں ا برِ رحمت درفشان است
اللہ تعالیٰ کی رحمت کابادل اب بھی برس رہا ہے۔ اللہ کی رحمت کے خزانے اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔ وہ رحمت کابادل اب بھی موتی برسارہا ہے ؎
خم و خم خانہ با مہر و نشان است
اللہ کے خم خانے یعنی شراب ِمعرفت ومحبت کے مے خانے اب بھی اللہ تعالیٰ کے پاس بے شمار ہیں۔ عمل کر کے دیکھو۔ جوشخص کہتا ہے کہ اب پہلے زمانے کی طرح ولی اللہ نہیں ہوسکتے ،وہ جاہل ہے، نادان ہے۔قرآنِ پاک کی اس آیت سے ناواقف ہے۔ اللہ تعالیٰ