میں کہ: اگر لڑکی نابالغ ہے، اور والدین یا ولی شرعی نے نابالغ لڑکی کا نکاح کسی شخص سے کردیا، اب لڑکی قریب البلوغ یا بالغ ہونے کے بعد نکاح کو فسخ کرتی ہے کہ میں اس نکاح کو نہیں مانتی، اور اسی حالت میں لڑکی کو زبردستی اس لڑکے (جس سے نکاح ہوا ہے) کے ساتھ رخصت کردیا، قریب قریب تین ماہ لڑکی اُس کے ساتھ رہی؛ لیکن یہ دن لڑکی نے زبردستی پورے کئے، تین ماہ کے درمیان صحبت وغیرہ سب کچھ ہوا، اب لڑکی اپنے گھر (میکے) میں آنے کے بعد کسی دوسرے شخص کے ساتھ فرار ہوکر کورٹ میرج (عدالتی کارروائی) کراکے دوسرے شخص کے ساتھ رہ رہی ہے۔ مذکورہ بالا صورت میں نابالغ لڑکی کا جو نکاح ہوا تھا، جس کو لڑکی بعد البلوغ قبول نہیں کررہی تھی، اور جبراً لڑکی کو رخصت کردیا گیا تھا، تو وہ نکاح درست ہوا یا غلط؟ نیز عدالتی کارروائی سے جس دوسرے کے ساتھ لڑکی رہ رہی ہے، اُس کا یہ فعل درست ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر لڑکی کا نکاح والد یا دادا نے کیا ہے، تو اُس کا نکاح منعقد اور لازم ہوچکا ہے، اور اُسے خیار بلوغ بھی حاصل نہیں ہے؛ لہٰذا پہلے نکاح میں رہتے ہوئے اُس لڑکی کا دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرنا قطعاً حرام اور باطل ہے، شرعاً وہ پہلے شوہر کی ہی بیوی ہے۔
عن عبد اللّٰہ بن دینار عمن حدثہ عن الحسن قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا أنکح الرجل ابنہ وہو کارہٌ فلیس بنکاح، وإذا زوجہ وہو صغیر جاز نکاحہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۳؍۴۴۹ رقم: ۱۶۰۰۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
عن عطاء قال: إذا أنکح الرجل ابنہ وہو صغیر، فنکاحہ جائز ولا طلاق لہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۳؍۴۴۹ رقم: ۱۶۰۰۹ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
عن الحسن أنہ کان یقول: نکاح الأب جائز علی ابنتہ، بکرًا کانت أو ثیبًا کرہت لو لم تکرہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۳؍۴۴۶ رقم: ۱۵۹۶۸ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
عن ابن طاؤس عن أبیہ قال: لا یکرہ الرجل ابنتہ الثیب علی نکاح ہي