رخصتی سے پہلے طلاق دینے پر عدت واجب نہیں
سوال(۵۶۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے لڑکی والوں سے موٹر سائیکل طلب کی، اور نہ ملنے پر رخصتی سے پہلے ہی اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو ایسی صورت میں مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ زید کی بیوی پر عدت گذارنی ضروری ہوگی یا نہیں؟ کیا وہ عدت گذارے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: برتقدیر صحتِ واقعہ رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق ہونے کی صورت میں مذکورہ عورت پر عدت واجب نہیں، وہ عدت گذارے بغیر کسی بھی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم ۱۰؍۲۹۹)
قال اللّٰہ تعالیٰ: {ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا} [الاحزاب، جزء آیت: ۴۹]
وسبب وجوبہا عقد النکاح المتأکد بالتسلیم وما جری مجراہ من موت أو خلوۃ۔ (الدر المختار مع الشامي ۵؍۱۸۰ زکریا، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۵؍۲۲۶ زکریا)
لا یجب علیہا العدۃ، وکذا لو طلّقہا قبل الخلوۃ۔ (خانیۃ علی الہندیۃ ۱؍۵۴۹) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۸؍۶؍۱۴۲۶ھ
خلوتِ صحیحہ کے بعد قبل الدخول طلاق دینے پرعدت کا حکم؟
سوال(۵۶۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کا نکاح ایک خاتون سے ہوا، دونوں میاں بیوی تنہا کچھ وقت کمرہ میں رہے، آپس میں لپٹا چپٹی ہوئی، جب کچھ تناؤ آیا لڑکے نے بیوی کا ستر کھولا، دخول نہ ہوا منی خارج ہوگئی، بیوی نے کہا