سمندر کے ساحل پر یکے بعد دیگرے کافی احباب جمع ہوگئے تو حضرت مرشدی دامت برکاتہم العالیہ نے مولانا یونس پٹیل صاحب سے دریافت فرمایا کہ آپ نے کیا لوگوں کو خبر دی تھی میرے یہاں آنے کی؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت! مدرسہ میں پرچہ چھوڑ آیا تھا، تاکہ آنے والوں کو افسوس نہ ہو۔
اللہ کیسے ملتا ہے؟
ارشاد فرمایا کہگناہ کی خواہش پیدا ہو تو اس خواہش کو جلاؤ اس پر عمل نہ کرو، دل پر غم اٹھاؤ، اللہ کی محبت کا ایک ذرّہ غم ساری دنیا کی سلطنت اور دولت سے افضل ہے، اللہ کو راضی کرنے میں اور اللہ کی ناراضگی سے بچنے میں جو غم آتا ہے اُسی غم سے اللہ تعالیٰ ملتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تہجد سے ملتا ہے تو خوب سمجھ لو کہ تہجد سے، نوافل سے، وظیفوں سے خدا نہیں ملتا۔ گناہ کو چھوڑنے سے، گناہوں کے چھوڑنے کا غم اٹھانے سے اللہ ملتا ہے۔اِنْ اَوْلِیَآءُ ہٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ اللہ اُسی کو اپنا ولی بناتا ہے جو تقویٰ سے رہتا ہے، گناہوں سے بچتا ہے، گناہوں سے بچنے کا غم اُٹھاتا ہے۔ عبادت تو حلوہ ہے، گناہ چھوڑنا بلوہ ہے۔ حلوے کے لیے سب تیارہیں، بلوے کے لیے تیار نہیں یعنی عبادت کے لیے سب تیار ہیں لیکن گناہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر عبادت سے خدا مل جاتا تو بہت آسان تھا مگر گناہ چھوڑنے سے اللہ ولی بناتا ہے کیوں کہ وہ بلوہ ہے، اس میں تکلیف ہوتی ہے تو اللہ چاہتا ہے کہ میرے بندے تکلیف اُٹھاکے مجھے پائیں، حلوہ کھاکے نہ پائیں۔ حلوہ کھانا کیا کمال ہے، گناہ چھوڑنے کی تکلیف اُٹھانا کمال ہے، اس لیے گناہ چھوڑنے ہی سے اللہ ملتا ہے۔ ہمارے شیخ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ گناہ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے منہ میں سہارنپوری گنّا ہو جس میں رس بھرا ہوتا ہے اور وہ اُس کو چوس رہا ہو اور کوئی اس کے منہ سے گنّا چھینے تو اس کو تکلیف ہوتی ہے تو جیسے آدمی کو گنّا چھوڑنے میں تکلیف ہوتی ہے ایسے ہی گناہ چھوڑنے میں تکلیف ہوتی ہے لیکن تکلیف برداشت کرنا علامتِ عشق و محبت ہے۔ سچا عاشق وہی ہے جو خدا کی راہ میں تکلیف اُٹھائے یہاں تک کہ جان بھی دے دے۔ یہ کیا کہ بس تلاوت