جس طرف کو رُخ کیا تو نے گلستاں ہوگیا
اور پھیرا جس طرف سے رُخ بیاباں ہوگیا
آیت وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ کی تفسیر
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے اوپر اپنی جانب سے محبتِ عظیمہ ڈال دی ہے پس جو آپ کو دیکھے گا محبت کرے گا۔روح المعانی ، جلد۱۶، صفحہ۱۸۹ پر ارقام ہے: أَیْ مَحَبَّۃً عَظِیْمَۃً کَائِنَۃً مِّنِّیْ قَدْ زَرَعْتُہَا فِی الْقُلُوْبِ،فَکُلُّ مَنْ رَاٰ کَ أَحَبَّکَ بِحَیْثُ لَا یَصْبِرُعَنْکَمحبتِ عظیمہ اپنی جانب سے دلوں میں بودی ہے، پس جو آپ کو دیکھے گا آپ سے محبت کرے گا اور آپ سے صبر نہ کرسکے گا۔آگے ارقام فرماتے ہیں:کَانَ فِیْ عَیْنَیْہِ مَلَاحَۃٌ، مَارَاٰہُ أَحَدٌ إِلَّا أَحَبَّہٗ؎ آپ کی آنکھوں میں اللہ تعالیٰ نے خاص ملاحت پیدا فرمادی تھی جس سے جو بھی آپ کو دیکھتا تھا پیار کرنے پر مجبور ہوجاتا تھا۔ یہاں سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ حسن کا مدار آنکھوں کی ملاحت پر ہے۔ اگر تمام جسم حسین ہو اور آنکھیں خراب ہوں تو حسن بے بنیاد ہوجاتا ہے۔آگے ارقام فرماتے ہیں کہ حکمِ الٰہی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب دریائے نیل میں تابوت کے اندر رکھ کر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر ڈال دیا تو یہ تابوت فرعون کے محل کے پاس ساحل کے قریب گزرا اور فرعون اپنی اہلیہ کے ساتھ ساحل پر تفریح کررہا تھا۔ اس تابوت کے دیکھتے ہی اس نے اعلان کیا کہ جو اس کو اُٹھالائے گا اس کو آزاد کردوں گا۔ اس وقت اس کے پاس چار سو غلام اور جاریہ تھیں، ایک غلام دوڑ کر اس کو اُٹھا لایا۔ کھول کر دیکھا تو ایک بچہ ہے جو أَصْبَحُ النَّاسِ اور أَجْمَلُ النَّاسِ ہے۔ اس خوشی میں اس نے سب غلاموں کو آزاد کردیا۔ (اللہ تعالیٰ کے مقبولین کی کیا شان ہے کہ جس طرف سے گزرتے ہیں رحمتِ حق کا نزول ہوتا ہے)
------------------------------