چو شکستہ می رہد اشکستہ شو
امن در فقر ست اندر فقر رو
جب کشتی شکستہ ہونے سے محفوظ ہوگئی ظلم سے تو سمجھ لے کہ امن فقر میں ہے پس فقر اختیارکر۔ کشتی کو حضرت خضر علیہ السلام نے شکستہ کیاتھاکہ ساحل ِبحر پر ظالم بادشاہ اچھی کشتی کو غصب کررہاتھا۔
چوں کہ شاہے دست یابد بر شہے
بکشدش یا باز دارد در چہے
جب جنگ میں کوئی بادشاہ کسی کو گرفتارکرتاہے تو اسے قتل کرتاہے یا پھر قید خانے میں ڈالتاہے۔
ور بیا بد خستۂ افتادہ را
مر ہمش ساز د شہہ و بدہد عطا
اور اگر شاہ کسی زخمی کو راہ میں پڑا دیکھتاہے تو اس کے مرہم بھی لگاتاہے اور اس کو انعام بھی دیتاہے۔
فائدہ: مطلب جاہ و مرتبہ کی فکر نہ کرو،اپنے کو مٹاکررکھو۔
تقویٰ
ہرکہ ترسید از حق و تقویٰ گزید
ترسد ازوے جن و انس و ہرکہ دید
جوشخص حق تعالیٰ سے ڈرتاہے اور تقویٰ اختیار کرتاہے اس سے جن و انس اور جوبھی اس کو دیکھتاہے ہیبت زدہ اور مرعوب ہوتاہے۔
ہیبتِ حق است ایں از خلق نیست
ہیبتِ ایں مرد صاحبِ دلق نیست