سلطنتِ بلخ ترک کرکے حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ نیشاپور کے صحرا میں ذکرِحق اور نعرۂ عاشقانہ بلند کرنے میں مشغول ہوگئے۔
نعرۂ مستانہ خوش می آیدم
تا ابد جاناں چنیں می بایدم
اے محبوبِ حقیقی! مجھے نعرۂ مستانہ بہت اچھا معلوم ہوتاہے اور قیامت تک اے محبوب ! بس یہی کام چاہتاہوں۔
جز بہ ذکرِ خویش مشغولم مکن
از کرم از عشق معزولم مکن
اے محبوبِ حقیقی!اپنے ذکر کے علاوہ مجھے کسی کام میں مشغول نہ کیجیے اور اپنے کرم کے صدقے میں اپنے عشق سے مجھے معزول نہ فرمائیے۔
جانِ قربت دیدہ را دوری مدہ
یارِ شب را روزِ مہجوری مدہ
اے اللہ! جس جان نے آپ کی شان وشوکتِ قرب دیکھ لی ہو اور قرب کا مزہ چکھ لیا ہو اس کو دوری کا عذاب نہ دے اور آدھی رات کو اٹھاکر اپنی یاد میں رونے کی توفیق عطافرماکرجس کو آپ نے اپنا دوست بنالیاہو اسے روزِ ہجر نہ دکھائیے یعنی فسق و فجور سے محفوظ فرمائیے کیوں کہ گناہ بندہ کوآپ سے دور کردیتاہے۔ اے محبوبِ حقیقی ! آپ کا ذکر اور آپ کی یاد ہی روح کی غذا اوردلِ مجروح کا مرہم ہے۔
ذکرِ حق آمد غذا ایں روح را
مرہم آمد ایں دلِ مجروح را
حق تعالیٰ کا ذکر ہی اس روح کی غذا ہے اور اللہ کی محبت سے زخمی دل کے لیے ذکرِ حق ہی مرہم ہے ؎
عالم ہے کہ بے لاگ پڑا سوتا ہے
غفلت میں ہر اک شخص پڑا ہوتا ہے