کائنات کی تمام لذتیں تم کو مردار نظر آنے لگیں۔
حضرت سلطان ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے باطن کو ترکِ سلطنت سے حق تعالیٰ کے قرب کی جو سلطنتِ لازوال حاصل ہوئی اس کو محسوس کرکے ان کی جانِ پاک بزبانِ حال کہہ رہی تھی:
ملکِ دنیا تن پرستاں را حلال
ما غلامِ عشق و ملکِ لا زوال
دنیا کا ملک تن پرستوں کومبارک ہو کہ ایک دن یہ ملک اور ملک والے دونوں فناہوجائیں گے اور ہمیں عشق کا ملکِ لازوال مبارک ہوکہ جس پر کبھی فنا نہیں آتی اور جان اس سلطنتِ عشق کوساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس جاتی ہے۔ اگر چھوٹی سی سلطنت ترک کرنے سے سلطنتِ لازوال عطا ہوجاوے تو کیا اس ترک سے کسی عاقل کو تکلیف ہوسکتی ہے؟یااگر کسی مکان کی بنیاد میں عظیم خزانہ مدفون ہو توکیا اس مکان کے انہدام سے کسی عاقل کو غم ہوسکتاہے؟
قصر چیزے نیست ویراں کن بدن
گنج در ویرانی است اے میر من
اے دوست! خزانہ ہمیشہ ویرانے میں ہی دفن کیا جاتاہے۔ پس محل کوئی چیز نہیں ہے، جسم اور اس کی قوتوں کویعنی خواہشاتِ نفسانیہ کو ویران کردو یعنی ان خواہشات کے تقاضوں پر عمل نہ کرو اور تقویٰ اختیار کرلوپھر خواہشات کے محل کو ویران کرنے کے بعد اسی ویرانے میں قربِ حق اور تعلّق مع اللہ کا عظیم خزانہ مشاہدہ کرلوگے۔
حضرت سلطان ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کو ترکِ سلطنت سے جو نعمت ملی اور صحرا میں دریا کے کنارے ذکر وعبادت کی جو حلاوت ان کے باطن کو عطا ہوئی اس کا لطف ان ہی سے پوچھنا چاہیے ؎
آہ را جز آسماں ہمدم نہ بود
راز را غیرِ خدا محرم نہ بود