قدموں کو راہِ استقامت سے نہیں ہٹاسکتی۔ تم کو کیا معلوم کہ میرے باطن کو احکم الحاکمین کی ذاتِ پاک کی معیتِ خاصہ حاصل ہے۔
خاصانِ خدا اگرچہ خستہ حال وپراگندہ بال ہوتے ہیں مگر ان کی شخصیت باعتبارِ روحانیت کے لاکھوں انسانوں سے فائق ترہوتی ہے۔ مولانا رومی رومی رحمۃ اللہ علیہ حق تعالیٰ کی طرف سے حکایۃًفرماتے ہیں کہ:
ہاں و ہاں ایں دلق پوشانِ من اند
صد ہزار اندر ہزاراں یک تن اند
اے لوگو!خبردار ہوجاؤ، خوب غور سے سن لو یہ گدڑی پوش ہمارے بہت ہی خاص بندے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان کا ایک خستہ وشکستہ جسم لاکھوں اجسامِ انسانیہ سے بر تر اور فائق تر ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی مٹی کو تعلّق مع اللہ کی برکت سے قیمتی بنالیااس لیے ان کے ایک جسم کی مٹی اللہ تعالیٰ کے نزدیک لاکھوں غافل و نافرمان انسانوں کے اجسام سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوگئی۔ ورنہ خالی جسم کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ جسم کیا ہے؟ ایک شیشی ہے، یہی شیشی دو آنے کی ہے اگر اس میں عطر نہ ہو اور یہی شیشی ایک لاکھ روپے کی ہے اگر اس میں اس قیمت کا عطر ڈال دیاجائے۔ جس قیمت کا عطر ہوگا شیشی بھی اسی قیمت میں بک جائے گی۔ پس اس جسم کی قیمت جب ہی بڑھتی ہے جب اس میں تعلّق مع اللہ کا عطر آجاتاہے۔ جتنا قیمتی یہ عطر ہوتاہے اتنی ہی یہ شیشی بھی قیمتی ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کا جسدِ اطہر جس جگہ مدفون ہے زمین کا وہ ٹکڑا عرش وکرسی سے افضل ہے۔ پس کافر کاجسم بھی ایک مٹی ہے اور مؤمن کا جسم بھی ایک مٹی ہے۔ عناصرِ اربعہ دونوں میں ایک ہی ہیں لیکن ایک خالی مٹی ہے اور ایک میں خزانۂ تعلّق مع اللہ مدفون ہے۔ ایک خالی شیشی ہے اور ایک میں محبتِ الٰہیہ پوشیدہ ہے۔
پس مؤمن کے جسم وجان کی قیمت تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اس کو اپنے قرب ورضا کے بدلے میں خرید لیاہے۔