ظاہر ہوجائیں اورلڑکی کا بالغ ہونا یہ ہے کہ اس کے ایام ماہواری شروع ہوجائیں ، اور بالغ ہوتے ہی دونوں پر فرض ہوجاتی ہے۔ لہٰذا تفصیلی توبہ کرتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھے کہ جس دن سے بالغ ہوا ہوں ، اس دن سے آْ تک میری کوئی نماز چھوٹی ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں چھوٹی تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور اگر چھوٹی ہیں توپھر اس کا حساب لگائے کہ میرے ذمے کونسی نماز کتنی باقی ہیں ، اگر پوری طرح ٹھیک ٹھیک حساب لگانا ممکن نہیں ہے تو پھر محتاط اندازہ لگائے، اگر بالغ ہونے کی تاریخ یاد نہیں ہے تو پھر چودہ سال کی عمر کے بعد سے حساب لگائے،اس لئے کہ ہمارے علاقوں میں چودہ سال پورے ہونے پر بچے بالغ ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا یہ اندازہ لگائے کہ چودہ سال کی عمر سے لے کر آج تک کتنی نمازیں قضا ہوئی ہوں گی، اس کا ایک محتاط اندازہ لگانے کے بعد پتہ چلا کہ تین سال کی نمازیں باقی ہیں ، اب کاپی کے اندر لکھ لے کہ تین سال کی نمازیں میرے ذمے ہیں ، اور پھر آج ہی سے ان کو ادا کرنا شروع کردے۔ یہ قضاء عمری کہلاتی ہے۔
قضاء عمری ادا کرنے کا طریقہ
قضاء عمری کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ ہرفرض نماز کے ساتھ ایک قضاء نماز پڑھنا شروع کردے، مثلاً فجر کے ساتھ فجر، ظہر کے ساتھ ظہر، عصر کے ساتھ عصر، مغرب کے ساتھ مغرب اور عشاء کے ساتھ عشاء۔ اور ہرقضاء نماز کی